ایرانتازہ ترین

آج ایران پر آخری حملہ ہوگا، ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

واشنگٹن: سابق امریکی صدر Donald Trump کے حالیہ بیانات نے عالمی سیاست میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، جہاں انہوں نے ایران، نیٹو اتحادیوں اور حتیٰ کہ وینزویلا سے متعلق بھی غیر معمولی اور سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

اپنے حالیہ بیانات میں ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے انتہائی جارحانہ انداز اپناتے ہوئے کہا کہ اگر ایران کسی معاہدے پر آمادہ نہ ہوا تو اس کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران کے پاور پلانٹس، پلوں اور صنعتی مراکز کو تباہ کرنے جیسے اقدامات زیر غور آ سکتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ بیان خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پہلے ہی مشرق وسطیٰ کی صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے۔

ٹرمپ نے ایران سے متعلق اپنی پالیسی کو انسانی حقوق کے تناظر میں بھی پیش کرنے کی کوشش کی، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات سیاسی بیانیے کا حصہ ہو سکتے ہیں اور زمینی حقائق سے مکمل مطابقت نہیں رکھتے۔

دوسری جانب، ٹرمپ نے نیٹو اور دیگر اتحادی ممالک پر بھی کھل کر تنقید کی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف کسی ممکنہ تنازع میں نہ صرف نیٹو بلکہ جاپان اور جنوبی کوریا جیسے قریبی اتحادیوں نے بھی امریکہ کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکہ کے ہزاروں فوجی ان ممالک میں تعینات ہیں، جنہیں خطے کی سکیورٹی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔

ٹرمپ نے نیٹو کے حوالے سے مزید سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ اگر اتحادی ممالک امریکی مفادات کا ساتھ نہیں دیتے تو امریکہ کو بھی اپنے تعلقات پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیان ماضی میں بھی ٹرمپ کے نیٹو سے متعلق تحفظات کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ دفاعی اخراجات اور ذمہ داریوں کی غیر مساوی تقسیم پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

ایک اور حیران کن پہلو ٹرمپ کا وینزویلا سے متعلق بیان ہے، جس میں انہوں نے مستقبل میں وہاں جا کر سیاست کرنے اور حتیٰ کہ صدارتی انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دیا۔ اگرچہ یہ بیان زیادہ تر سیاسی یا علامتی نوعیت کا سمجھا جا رہا ہے، تاہم اس نے سوشل میڈیا اور عالمی میڈیا میں خاصی توجہ حاصل کی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے یہ بیانات ایک بار پھر ان کے جارحانہ اور غیر روایتی سیاسی انداز کو ظاہر کرتے ہیں، جو نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی سفارتی ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا یہ بیانات محض سیاسی حکمت عملی ہیں یا مستقبل کی کسی ممکنہ پالیسی کا عندیہ۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button