تازہ ترینسعودی عرب

کویت آئل ریفائنری میں آگ، سعودی عرب نے 20 ڈرون تباہ کر دیے

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

خلیجی خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے، جہاں ایران سے منسوب ڈرون حملوں نے کویت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں کئی مقامات پر آگ اور دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

کویت کی سرکاری آئل کمپنی کے مطابق جمعہ کی صبح مینا الاحمدی ریفائنری پر ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے بعد ریفائنری کے بعض یونٹس میں آگ بھڑک اٹھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم حفاظتی اقدامات کے تحت کچھ یونٹس کو بند کر دیا گیا ہے جبکہ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر آگ بجھانے میں مصروف ہو گئیں۔

کویتی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنایا، اور شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ سکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں۔

دوسری جانب سعودی عرب کی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے مشرقی صوبے اور الجوف کے علاقوں میں کم از کم 20 ڈرونز کو تباہ کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ ڈرونز حساس تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم بروقت کارروائی سے بڑا نقصان ٹال دیا گیا۔

متحدہ عرب امارات میں بھی صورتحال کشیدہ رہی، جہاں دارالحکومت ابو ظہبی سمیت مختلف علاقوں میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ وزارت دفاع کے مطابق یہ آوازیں فضائی دفاعی نظام کی جانب سے ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کرنے کے نتیجے میں آئیں۔ حکام نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں سینکڑوں میزائل اور ہزاروں ڈرون حملوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے۔

بحرین میں بھی ایک گودام پر ملبہ گرنے سے آگ لگنے کی اطلاع ملی ہے، جسے فائر فائٹنگ ٹیموں نے قابو میں لے لیا۔ بحرینی حکام کے مطابق ان کے فضائی دفاعی نظام مسلسل حملوں کا مقابلہ کر رہے ہیں اور اب تک درجنوں میزائل اور ڈرونز کو تباہ کیا جا چکا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے اس وسیع علاقائی کشیدگی کا حصہ ہیں جس میں ایران اپنے مخالفین اور امریکی مفادات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ تاہم کئی مواقع پر ان حملوں کے اثرات شہری تنصیبات تک بھی پہنچے ہیں، جس پر خلیجی ممالک نے شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں میں ایران کی جانب سے ہزاروں میزائل اور ڈرونز استعمال کیے گئے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ اب صرف محدود محاذ تک نہیں رہی بلکہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ حملے اسی طرح جاری رہے تو نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ عالمی توانائی سپلائی اور معیشت پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان ممالک میں موجود تیل اور گیس تنصیبات عالمی مارکیٹ کے لیے نہایت اہم حیثیت رکھتی ہیں۔

مجموعی طور پر صورتحال انتہائی حساس ہو چکی ہے، اور خطے میں کسی بھی بڑے واقعے سے کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ موجود ہے، جبکہ عالمی برادری اس بحران کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button