
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران میں جاری جنگ کے دوران ایک نئی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ امریکہ کا جدید "پریسیژن اسٹرائیک میزائل” (PRISM) پہلی بار عملی جنگ میں استعمال کیا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ میزائل جنوبی ایران کے شہر لامرد میں ہونے والے حملے میں استعمال ہوا، جس میں شہری تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔
بین الاقوامی تحقیقاتی اداروں اور ماہرین کے تجزیے کے مطابق اس حملے میں ایک اسپورٹس ہال اور قریبی پرائمری اسکول کو نشانہ بنایا گیا، جہاں کم از کم 21 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ متاثرین میں بچے اور خواتین بھی شامل تھیں، جو اس وقت عمارتوں کے اندر موجود تھے۔
رپورٹس کے مطابق اس میزائل کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ہدف کے اوپر فضا میں پھٹتا ہے اور ٹنگسٹن دھات کے چھوٹے ذرات وسیع علاقے میں پھیلا دیتا ہے، جس سے غیر محفوظ افراد اور گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ ویڈیوز اور تصاویر میں عمارتوں پر سینکڑوں سوراخ، چھتوں کو جزوی نقصان اور اندرونی تباہی کے واضح آثار دیکھے گئے، جو اس نوعیت کے ہتھیار کی خصوصیات سے مطابقت رکھتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ پر بڑے گڑھے (crater) کا نہ ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میزائل فضا میں ہی پھٹا، جو اس کے جدید ڈیزائن کا حصہ ہے۔ تاہم اس طریقہ کار کے باعث اردگرد موجود شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ میزائل حالیہ عرصے میں تیار کیا گیا تھا اور یہ اس کا پہلا حقیقی جنگی استعمال ہو سکتا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق یہ نظام پرانے ATACMS میزائل کی جگہ لینے کے لیے تیار کیا گیا ہے اور اس کی رینج اور درستگی زیادہ ہے۔
تاہم اس حملے کے بعد اس بات پر بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ آیا اس جدید ہتھیار کا استعمال شہری علاقوں کے قریب مناسب تھا یا نہیں۔ سیٹلائٹ تصاویر اور نقشوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ متاثرہ اسکول اور اسپورٹس ہال فوجی تنصیب سے الگ اور واضح طور پر شہری سہولیات کے طور پر موجود تھے۔
اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے نے دعویٰ کیا ہے کہ حملے کے وقت اس ہال میں خواتین کی والی بال ٹیم موجود تھی، جبکہ اسکول میں معمول کے مطابق سرگرمیاں جاری تھیں۔ اس کے علاوہ ایک تیسرے مقام پر بھی حملے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں ممکنہ طور پر ایک ثقافتی مرکز کو نقصان پہنچا، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔

امریکی فوجی ترجمان نے ان الزامات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں اور امریکی افواج جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ نہیں بناتیں۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے ہتھیار، جو وسیع علاقے میں نقصان پہنچاتے ہیں، گنجان آبادی والے علاقوں میں استعمال ہونے پر سنگین نتائج پیدا کر سکتے ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق جدید جنگوں میں نئے ہتھیاروں کا "میدانی تجربہ” ایک عام عمل بن چکا ہے، لیکن اس کے ساتھ خطرات بھی بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر جب یہ تجربات شہری علاقوں کے قریب کیے جائیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف جنگی حکمت عملی بلکہ بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کے حوالے سے بھی اہم سوالات اٹھاتا ہے، اور آنے والے دنوں میں اس پر مزید تحقیقات اور عالمی ردعمل متوقع ہے۔



