
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی کشیدگی کے دوران ایک نیا دعویٰ سامنے آیا ہے جس میں سابق امریکی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے کہا ہے کہ ایران ممکنہ طور پر شمالی کوریا سے بہت کم وقت میں جوہری ہتھیار حاصل کر سکتا تھا۔ ان کے مطابق اگر امریکہ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع نہ کی ہوتی تو تہران صرف چند دنوں میں ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بولٹن کا کہنا تھا کہ ایران اور شمالی کوریا کے درمیان ممکنہ تعاون کو کم نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق اگر تہران چاہتا تو ایک مالیاتی لین دین کے ذریعے شمالی کوریا سے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا راستہ تلاش کیا جا سکتا تھا اور چند دنوں کے اندر یہ ہتھیار مختلف راستوں سے ایران منتقل کیا جا سکتا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف شروع کیے گئے فوجی آپریشن نے تہران کے جوہری عزائم کو عارضی طور پر نقصان پہنچایا ہے، تاہم یہ خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ بولٹن کے مطابق ایران اب بھی اپنے اتحادیوں کے ذریعے جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کر سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کو مزید تیز کر رہے ہیں۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا بنیادی مقصد ایران کے جوہری پروگرام اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران میں حالیہ سیاسی تبدیلیوں کے بعد بھی خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری کے بعد مغربی ممالک میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ تہران کی پالیسیوں میں بڑی تبدیلی کا امکان کم ہے اور ایران اپنے دفاعی اور میزائل پروگرام کو جاری رکھ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران، شمالی کوریا، روس اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات مغربی ممالک کے لیے ایک اہم سیکیورٹی چیلنج بن سکتے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ مزید طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔



