
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تل ابیب: اسرائیل نے اعتراف کیا ہے کہ غزہ میں جاری جنگ کے دوران گزشتہ دو برسوں میں ملکی معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، جس کا تخمینہ 57 ارب ڈالر (تقریباً 177 ارب شیکل) لگایا گیا ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ نقصان اسرائیل کی سالانہ مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً 8.6 فیصد کے برابر ہے، جو مسلسل جاری تنازعات کے معاشی اثرات کو ظاہر کرتا ہے۔
جنگ کے معاشی اثرات
ماہرین کے مطابق غزہ میں جاری فوجی کارروائیوں نے اسرائیلی معیشت کے مختلف شعبوں کو متاثر کیا ہے، جن میں:
- دفاعی اخراجات میں غیر معمولی اضافہ
- کاروباری سرگرمیوں میں کمی
- سرمایہ کاری میں سست روی
- سیاحت کے شعبے کو شدید نقصان
خاص طور پر طویل جنگی صورتحال نے حکومتی بجٹ پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جس کے باعث دیگر ترقیاتی منصوبے بھی متاثر ہوئے ہیں۔
مزدور اور کاروباری بحران
رپورٹس کے مطابق جنگ کے دوران بڑی تعداد میں شہریوں کو فوجی خدمات کے لیے طلب کیا گیا، جس کے باعث لیبر مارکیٹ متاثر ہوئی اور کئی صنعتوں میں پیداوار کم ہو گئی۔

اسی طرح غیر یقینی صورتحال کے باعث غیر ملکی سرمایہ کار بھی محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں، جس سے معیشت کی رفتار مزید سست پڑ گئی ہے۔
غزہ جنگ اور مسلسل کشیدگی
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو صرف غزہ ہی نہیں بلکہ دیگر محاذوں، جیسے لبنان اور ایران کے ساتھ کشیدگی، کے باعث بھی دفاعی اخراجات میں اضافہ کرنا پڑ رہا ہے، جس سے مالی دباؤ مزید بڑھ رہا ہے۔
اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو آنے والے مہینوں میں معیشت پر اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں، اور حکومتی قرضوں میں اضافہ بھی ممکن ہے۔
مستقبل کے خدشات
ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ:
- طویل جنگ معیشت کو مزید کمزور کر سکتی ہے
- بجٹ خسارہ بڑھنے کا امکان ہے
- مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے

کچھ اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر کشیدگی کم نہ ہوئی تو اسرائیل کو اپنی معاشی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کرنا پڑ سکتی ہیں۔
اہم نکات:
- غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو 57 ارب ڈالر سے زائد نقصان
- GDP کا تقریباً 8.6 فیصد متاثر
- دفاعی اخراجات اور سرمایہ کاری میں کمی
- لیبر مارکیٹ اور کاروبار متاثر
- طویل جنگ سے مزید معاشی دباؤ کا خدشہ



