تازہ ترینعالمی خبریں

برطانیہ کے ضمنی انتخاب میں مانچسٹر کے مسلم ووٹرز فیصلہ کن حیثیت اختیار کر گئے

برطانیہ کے شہر مانچسٹر کے علاقے گورٹن اور ڈینٹن اس وقت قومی سیاست کے مرکز میں آ چکے ہیں، جہاں 26 فروری کو ہونے والا پارلیمانی ضمنی انتخاب مستقبل کی برطانوی سیاست کا رخ متعین کر سکتا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اس حلقے میں مسلم ووٹرز کا کردار فیصلہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ نشست سابق لیبر رکنِ پارلیمنٹ کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی، جس کے بعد مقامی اور قومی سطح پر سیاسی سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ گورٹن اور ڈینٹن ایک متنوع آبادی پر مشتمل حلقہ ہے، جہاں مسلمان ووٹرز تقریباً 30 فیصد کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

مرکزی جماعتوں کو چیلنج

رپورٹس کے مطابق برطانیہ کی حکمران جماعت لیبر، جو 2024 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی، اب عوامی ناراضی کا سامنا کر رہی ہے۔ پالیسی یوٹرنز اور داخلی تنازعات نے اس کی مقبولیت کو متاثر کیا ہے۔ دوسری جانب کنزرویٹو پارٹی بھی اپنے سابقہ ادوار کے سیاسی بحرانوں کے بوجھ تلے دباؤ میں ہے۔

اسی خلا کا فائدہ گرین پارٹی اور دائیں بازو کی جماعت ریفارم یو کے اٹھا رہی ہیں، جو مقامی اور قومی سطح پر اپنی حمایت میں اضافہ دیکھ رہی ہیں۔

مسلم ووٹ کیوں اہم ہے؟

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 2024 کے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کو مسلم ووٹ میں کمی کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر غزہ سے متعلق پالیسیوں پر تنقید کے بعد۔ اسی پس منظر میں موجودہ ضمنی انتخاب میں مسلم ووٹرز کی ترجیحات غیر یقینی سمجھی جا رہی ہیں۔

کچھ ووٹرز لیبر کو روک تھام کی سیاست کے طور پر دیکھتے ہیں، جبکہ دیگر گرین پارٹی کو زیادہ اصولی مؤقف کی نمائندہ سمجھتے ہیں۔ دوسری جانب ریفارم یو کے کی امیگریشن مخالف پالیسیوں نے حلقے میں بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔

مقامی بمقابلہ قومی سیاست

ڈینٹن کی آبادی نسبتاً اکثریتی سفید فام ہے جبکہ گورٹن زیادہ کثیرالثقافتی علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہی سماجی فرق ووٹنگ پیٹرن کو متاثر کر سکتا ہے۔

کئی ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ روایتی سیاست سے مایوس ہیں اور اس بار ووٹ کا فیصلہ آخری وقت پر کریں گے۔

مستقبل پر اثرات

سیاسی مبصرین کے مطابق اگر گرین پارٹی یہاں کامیابی حاصل کرتی ہے تو یہ برطانیہ میں بائیں بازو کی سیاست کے لیے ایک اہم سنگ میل ہوگا۔ اگر ریفارم یو کے بہتر کارکردگی دکھاتی ہے تو یہ روایتی جماعتوں کے لیے ایک وارننگ سمجھی جائے گی۔

یہ ضمنی انتخاب صرف ایک نشست کا معاملہ نہیں، بلکہ یہ اس بات کا امتحان بھی ہے کہ کیا برطانیہ کی سیاست میں مرکز کمزور ہو رہا ہے اور ووٹر نئے متبادل تلاش کر رہے ہیں۔

فیصلہ جو بھی ہو، گورٹن اور ڈینٹن کے ووٹرز اس بار قومی منظرنامے پر گہرا اثر ڈالنے جا رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button