ایرانتازہ ترین

ایران نے امریکی جنگی جہاز F-35 کو مار گرایا:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی فضائیہ کا جدید ترین اسٹیلتھ لڑاکا طیارہ F-35 مبینہ طور پر ایرانی فائرنگ سے متاثر ہونے کے بعد ہنگامی لینڈنگ پر مجبور ہو گیا۔

امریکی حکام کے مطابق یہ طیارہ ایران کے اوپر ایک جنگی مشن مکمل کرنے کے بعد واپس آ رہا تھا کہ اسے فنی مسئلے کے باعث فوری طور پر خطے میں موجود ایک امریکی اڈے پر اتارنا پڑا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طیارہ ایرانی حملے کی زد میں آیا ہو سکتا ہے، تاہم اس کی مکمل تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔

یہ واقعہ اس جنگ کا پہلا موقع قرار دیا جا رہا ہے جب ایران نے براہِ راست امریکی فضائیہ کے جدید طیارے کو نشانہ بنانے میں ممکنہ کامیابی حاصل کی ہو۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ دعویٰ درست ثابت ہوتا ہے تو یہ فضائی برتری کے حوالے سے ایک بڑی پیش رفت تصور کی جائے گی۔

ادھر خطے میں جنگی صورتحال تیزی سے پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے فوجی اور حکومتی اہداف پر حملے جاری ہیں، جبکہ ایران بھی میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیل، خلیجی ممالک اور امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس سے عالمی توانائی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر اثر پڑنے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ امریکہ کو جنگ میں شامل کرنے کے حوالے سے کوئی گمراہ کن اقدام نہیں کیا گیا، جبکہ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا عالمی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر نے دفاعی اخراجات میں بڑے اضافے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورتحال میں بھاری سرمایہ کاری “قومی سلامتی کے لیے ضروری قیمت” ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ کے اتحادی ممالک کو اربوں ڈالر کے ہتھیاروں کی فروخت بھی تیز کر دی ہے، جس سے خطے میں اسلحے کی دوڑ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔

ادھر ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اب تک اپنی مکمل عسکری صلاحیت استعمال نہیں کر رہا، تاہم اگر اس کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے ہوئے تو ردعمل مزید سخت ہو سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ اب صرف روایتی میدان تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں فضائی برتری، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر حکمت عملی اور توانائی کی سیاست بھی شامل ہو چکی ہے۔ خاص طور پر F-35 جیسے جدید طیارے کو نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران دفاعی لحاظ سے نئے طریقے آزما رہا ہے۔

لبنان میں بھی صورتحال کشیدہ ہے جہاں اسرائیلی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اس کے ساتھ ہی قطر سمیت کئی ممالک نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو یہ تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت، توانائی مارکیٹ اور بین الاقوامی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

فی الحال خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے اور آنے والے دن اس جنگ کے مستقبل کا تعین کریں گے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button