امریکاتازہ ترین

ٹرمپ کی دھمکیوں سے عالمی مارکیٹس ہل گئیں، تیل 110 ڈالر کے قریب

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

لندن/نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے توانائی انفراسٹرکچر پر مزید حملوں کی دھمکی کے بعد عالمی اسٹاک مارکیٹس میں شدید مندی دیکھنے میں آئی ہے، جبکہ تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ کر 110 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔

برطانوی اسٹاک مارکیٹ FTSE 100 میں کاروبار کے آغاز پر نمایاں کمی دیکھی گئی، جبکہ یورپ بھر کی مارکیٹس بھی دباؤ کا شکار رہیں۔ جرمنی کا DAX اور فرانس کا CAC انڈیکس بھی واضح خسارے کے ساتھ ٹریڈ کرتے رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرمایہ کار جنگ کے پھیلاؤ سے شدید خدشات کا شکار ہیں۔

ماہرین کے مطابق مارکیٹس کو سب سے بڑا جھٹکا صدر ٹرمپ کے حالیہ خطاب سے لگا، جس میں انہوں نے ایران پر “انتہائی سخت” حملوں کا عندیہ دیا اور واضح کیا کہ جنگ جلد ختم ہونے کے امکانات کم ہیں۔ اس بیان کے بعد سرمایہ کاروں کی امیدیں دم توڑ گئیں اور مارکیٹس دوبارہ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہو گئیں۔

دوسری جانب خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں برینٹ کروڈ میں تقریباً 5 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی اور ممکنہ سپلائی میں رکاوٹیں ہیں، کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔

ٹرمپ کی جانب سے اس اہم سمندری راستے کے حوالے سے کوئی واضح حکمت عملی نہ دینے اور اتحادیوں کو خود اقدامات کرنے کا مشورہ دینے سے مارکیٹ میں مزید بے چینی پیدا ہوئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ راستہ طویل عرصے تک متاثر رہا تو عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ جنگ کے طویل ہونے کی صورت میں عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک حالیہ سروے کے مطابق تقریباً ایک تہائی کاروباری اداروں نے کہا ہے کہ یہ جنگ آئندہ سال کے دوران ان کی سپلائی چین کو متاثر کرے گی، جبکہ نصف سے زائد کمپنیوں کو اخراجات اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

توانائی کمپنیوں کے حصص میں اضافہ دیکھا گیا، جیسے BP اور Shell کو تیل کی بڑھتی قیمتوں کا فائدہ ہوا، جبکہ کان کنی کے شعبے میں کمی ریکارڈ کی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے عالمی معیشت کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے، جہاں جنگ، توانائی بحران اور مہنگائی مل کر ایک بڑے اقتصادی چیلنج کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ اگر کشیدگی برقرار رہی تو آنے والے دنوں میں عالمی مارکیٹس مزید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button