
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران سے جڑی حالیہ جنگی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جس پر عالمی توانائی ایجنسی (IEA) نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایندھن ذخیرہ کرنے یا برآمدات پر پابندیاں لگانے سے گریز کریں، کیونکہ اس سے عالمی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق IEA کے سربراہ نے واضح کیا ہے کہ اس وقت دنیا کو توانائی کی فراہمی کے حوالے سے ایک انتہائی نازک صورتحال کا سامنا ہے، اور اگر ممالک اپنے لیے تیل اور ایندھن جمع کرنا شروع کر دیں تو اس کے منفی اثرات دیگر ممالک، خاص طور پر درآمد پر انحصار کرنے والی معیشتوں پر پڑیں گے۔
ماہرین کے مطابق ایران جنگ کے بعد خلیج میں اہم بحری راستے متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث تیل اور گیس کی عالمی ترسیل میں بڑی رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے بڑے توانائی بحرانوں میں شمار کی جا رہی ہے، جس سے عالمی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے۔

IEA نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ممالک کو تعاون اور کھلے تجارتی نظام کو برقرار رکھنا ہوگا، کیونکہ اگر ہر ملک اپنی ضرورت کے لیے ذخیرہ اندوزی شروع کر دے تو عالمی سطح پر قلت اور قیمتوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے نہ صرف مہنگائی بڑھے گی بلکہ غریب ممالک کے لیے توانائی کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔
دوسری جانب کئی ممالک پہلے ہی ایندھن کی کمی کے باعث ہنگامی اقدامات کر رہے ہیں، جن میں ایندھن کی راشن بندی، گھروں سے کام کی حوصلہ افزائی اور توانائی کے استعمال میں کمی شامل ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو یہ بحران مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی معیشت سست روی کا شکار ہو سکتی ہے اور کئی ممالک کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
مجموعی طور پر عالمی اداروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ صورتحال میں تعاون، شفافیت اور منڈیوں کو کھلا رکھنا ہی واحد راستہ ہے، تاکہ توانائی بحران کو قابو میں رکھا جا سکے اور عالمی سطح پر استحکام برقرار رہے۔



