
انقرہ (تازہ حالات رپورٹ ) — موجودہ عالمی حالات، جہاں بین الاقوامی نظام کو شدید اور پرتشدد تبدیلیوں کا سامنا ہے، ترکیہ نے اپنی خارجہ پالیسی اور علاقائی حکمت عملی کا واضح اعلان کر دیا ہے۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ اس کشیدہ دور میں ترکیہ کا واحد مقصد نئے دوست بنانا ہے، نہ کہ دشمنیاں پیدا کرنا، تنازعات کو ہوا دینا یا مسائل کو مزید الجھانا۔
سفارت کاری اور امن کی ترجیح پیر کے روز دارالحکومت انقرہ کے صدارتی کیمپس میں کابینہ کے ایک اہم اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے، صدر اردوان نے ترکیہ کی امن پسندانہ پالیسیوں پر زور دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا ملک بحرانوں کو ‘گرم تنازعات’ یا باقاعدہ جنگوں میں تبدیل ہونے سے پہلے ہی بات چیت، مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ مشرقِ وسطیٰ اور یورپ کے سنگم پر واقع ہونے اور ایک اہم علاقائی طاقت ہونے کی وجہ سے، عالمی کشیدگی کو کم کرنے میں ترکیہ کا یہ سفارتی کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔
حق اور انصاف کی بے باک حمایت ترک صدر نے عالمی سطح پر تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا، "ہم دنیا میں جہاں کہیں بھی حق اور انصاف دیکھتے ہیں، اس کا بھرپور دفاع کرتے ہیں۔ ہم بغیر کسی دباؤ یا خوف کے، جرات اور بہادری کے ساتھ سچائی کا ساتھ دیتے ہیں۔”

صدر اردوان نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ عالمی تنازعات اور بالخصوص خطے کے سلگتے ہوئے مسائل کے حوالے سے ترکیہ کے اس جرات مندانہ، دیانت دارانہ اور اصولی مؤقف کو بین الاقوامی سطح پر قدر اور تحسین کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
رمضان کی مبارکباد اور ابھرتا ہوا عالمی اثر و رسوخ اس موقع پر ترک صدر نے پوری مسلم امہ کو ماہِ رمضان کی آمد پر مبارکباد پیش کی اور امید ظاہر کی کہ یہ بابرکت ایام پوری انسانیت کے لیے امن، سلامتی اور خیر و عافیت کا پیغام لے کر آئیں گے۔
دیگر ممالک کی خودمختاری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ترکیہ تمام اقوام کے خودمختار حقوق کا مکمل احترام کرتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ہی وہ دنیا سے بھی یہی بجا توقع رکھتا ہے کہ وہ ترکیہ کے حقوق، قوانین اور فیصلوں کا احترام کرے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر ترکیہ کی بڑھتی ہوئی عالمی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا: "آج دنیا بھر میں ترکیہ کا اثر و رسوخ واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔ ترکیہ کیا سوچتا ہے، کیا کرتا ہے، نئی عالمی پیش رفت کے حوالے سے اس کا مؤقف کیا ہے، اور وہ مستقبل میں کیا قدم اٹھائے گا — یہ سب عوامل اب عالمی برادری کے لیے گہری دلچسپی اور انتظار کا مرکز بن چکے ہیں۔”



