
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
خلیجی ممالک نے توانائی کی ترسیل کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بڑے اور طویل المدتی منصوبے پر غور شروع کر دیا ہے، جس کے تحت اربوں ڈالر کی لاگت سے پائپ لائن نیٹ ورک قائم کیا جا سکتا ہے تاکہ آبنائے ہرمز پر انحصار کم کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ ایسے وقت میں زیر غور آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے باعث اہم بحری راستے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ آبنائے ہرمز کو دنیا کے اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں کسی بھی رکاوٹ کا اثر براہ راست عالمی توانائی مارکیٹ پر پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مجوزہ پائپ لائن نیٹ ورک خلیجی ممالک کو متبادل راستے فراہم کرے گا، جس کے ذریعے تیل اور گیس کو براہ راست محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا سکے گا۔ اس سے نہ صرف برآمدات میں تسلسل برقرار رہے گا بلکہ ہنگامی حالات میں بھی سپلائی چین متاثر نہیں ہو گی۔
رپورٹس کے مطابق اس منصوبے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر خلیجی ممالک کی شمولیت متوقع ہے، جبکہ اس کے مختلف روٹس زیرِ غور ہیں جو بحری راستوں کے بجائے زمینی راستوں سے توانائی کی ترسیل کو ممکن بنائیں گے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ جنگی صورتحال نے خلیجی ممالک کو یہ احساس دلایا ہے کہ صرف ایک ہی راستے پر انحصار خطرناک ہو سکتا ہے، اسی لیے متبادل انفراسٹرکچر کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ اس سے توانائی کی فراہمی زیادہ مستحکم ہو سکتی ہے اور قیمتوں میں اچانک اتار چڑھاؤ کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔
تاہم ماہرین یہ بھی کہتے ہیں کہ اس طرح کے بڑے منصوبے کو مکمل ہونے میں کئی سال لگ سکتے ہیں اور اس کے لیے خطے میں سیاسی استحکام اور بین الاقوامی تعاون بھی ضروری ہوگا۔
مجموعی طور پر یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ خلیجی ممالک اب توانائی کے شعبے میں طویل المدتی حکمت عملی اپنانے کی جانب بڑھ رہے ہیں، جہاں سیکیورٹی، معیشت اور عالمی سپلائی چین کو مدنظر رکھتے ہوئے بڑے فیصلے کیے جا رہے ہیں۔



