
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ریاض/ابوظہبی: ایران جنگ اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی کشیدگی کے بعد خلیجی ممالک نے تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے متبادل راستوں پر غور شروع کر دیا ہے، جس میں نئی پائپ لائنز اور زمینی راہداریوں کے منصوبے شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق خلیجی ریاستیں ایسی توانائی سپلائی چین بنانے پر غور کر رہی ہیں جو آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرے، کیونکہ موجودہ صورتحال نے اس اہم عالمی تجارتی راستے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک تجویز یہ بھی زیر غور ہے کہ خلیج سے تیل کو زمینی راستوں کے ذریعے بحیرہ روم تک پہنچایا جائے، جس میں اسرائیل کی بندرگاہ حیفہ تک رسائی شامل ہو سکتی ہے۔
فی الحال سعودی عرب اس حوالے سے سب سے آگے ہے، جو پہلے ہی اپنی “ایسٹ ویسٹ پائپ لائن” کے ذریعے خلیج سے نکل کر بحیرہ احمر تک تیل منتقل کر رہا ہے، جس سے اسے بحران کے دوران بھی برآمدات جاری رکھنے میں مدد ملی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کا ایک اہم راستہ ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل گزرتا ہے، اور کسی بھی رکاوٹ سے عالمی منڈی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

ایران جنگ کے بعد اس راستے میں رکاوٹوں اور سیکیورٹی خدشات نے خلیجی ممالک کو مجبور کیا ہے کہ وہ طویل المدتی متبادل تلاش کریں، کیونکہ صرف سمندری راستوں پر انحصار اب خطرناک سمجھا جا رہا ہے۔
تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نئی پائپ لائنز کی تعمیر نہایت مہنگی اور وقت طلب ہے، اور کئی منصوبوں کو مکمل ہونے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ جغرافیائی اور سیاسی چیلنجز بھی ان منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔
دوسری جانب عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت کو اہم سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ اگر یہ منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تو توانائی کی عالمی تجارت کا رخ تبدیل ہو سکتا ہے اور خلیجی ممالک کو مستقبل میں زیادہ محفوظ اور متبادل راستے میسر آ سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق موجودہ بحران نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی توانائی نظام کس قدر حساس ہے، اور آئندہ برسوں میں ممالک اپنی سپلائی چین کو محفوظ بنانے کے لیے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر مزید سرمایہ کاری کر سکتے ہیں۔



