تازہ ترینمشرق وسطی

خلیجی ممالک پر ڈرون حملوں کے بعد ہائی الرٹ، یو اے ای، سعودی عرب اور کویت کا دفاعی ردعمل

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے تناظر میں خلیجی خطے میں بھی کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور کویت نے اتوار کی صبح ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرے کے بعد اپنے فضائی دفاعی نظام کو متحرک کر دیا، جبکہ بحرین میں احتیاطی طور پر فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے۔

متحدہ عرب امارات کی وزارت داخلہ کے مطابق ملک کے فضائی دفاعی نظام نے ایران کی جانب سے آنے والے ممکنہ میزائل اور ڈرون حملوں کو روکنے کے لیے کارروائیاں کیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں سنے جانے والے دھماکوں کی آوازیں دراصل فضائی دفاعی نظام کی جانب سے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کی کارروائیوں کے باعث تھیں۔

دوسری جانب امارات کی اہم آئل سپلائی بندرگاہ فجیرہ میں ایک توانائی تنصیب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی تھی، تاہم حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور بندرگاہ پر تیل لوڈنگ کی سرگرمیاں دوبارہ بحال کر دی گئی ہیں۔

بحرین کی وزارت داخلہ نے بھی شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے سائرن بجائے اور لوگوں کو قریبی محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں بڑھتی سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر احتیاطی طور پر اٹھایا گیا۔

اسی دوران سعودی عرب اور کویت کو بھی ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑا۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق دارالحکومت ریاض اور مشرقی علاقوں کی طرف آنے والے 10 ڈرونز کو فضائی دفاعی نظام نے تباہ کر دیا۔ اس سے قبل بھی سعودی عرب نے کئی میزائل اور ڈرون حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔

کویت کی نیشنل گارڈ نے بھی اعلان کیا کہ اس کے دفاعی نظام نے مختلف مقامات پر پانچ ڈرونز کو مار گرایا۔ کویت کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق ایک ڈرون حملے میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ریڈار سسٹم کو نشانہ بنایا گیا، تاہم اس واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے خلیجی ممالک میں موجود بعض فوجی اہداف کو میزائل حملوں میں نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے مطابق ان حملوں میں ایسے فوجی اڈے شامل تھے جہاں امریکی افواج موجود ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران اور امریکہ۔اسرائیل کے درمیان جاری جنگ مزید پھیلتی ہے تو خلیجی ممالک براہِ راست اس تنازعے کی لپیٹ میں آ سکتے ہیں، جس کے عالمی توانائی منڈی اور سمندری تجارت پر بھی گہرے اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button