تازہ ترینمشرق وسطی

خلیجی ممالک کو ایران جنگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں: خلیف احمد الحبتور کا بیان،

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )متحدہ عرب امارات کے معروف کاروباری رہنما خلف احمد الحبتور نے امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ خلیجی ممالک کو مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں شامل ہونے کے لیے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے کے ممالک اپنی سلامتی اور مفادات کے بارے میں خود بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

اپنے بیان میں الحبتور نے کہا کہ انہوں نے سینیٹر گراہم کے وہ بیانات سنے جن میں خلیج تعاون کونسل (GCC) کے ممالک کو جنگ میں شامل ہونے کی اپیل کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس جنگ نے پورے خطے کو ایک خطرناک صورتحال میں دھکیل دیا ہے، جبکہ اس فیصلے میں خطے کے اتحادی ممالک سے مناسب مشاورت بھی نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک ایران کے ممکنہ خطرات سے آگاہ ہیں اور اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حالیہ دنوں میں یہ خطرہ مزید واضح ہوا ہے۔ تاہم ان کے بقول مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال ایک پیچیدہ طاقت کی کشمکش کا نتیجہ ہے جس میں مختلف عالمی اور علاقائی طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے مطابق حرکت کر رہی ہیں۔

الحبتور کا کہنا تھا کہ اس صورتحال میں خطے کے ممالک کو کسی دوسرے کے مفادات کے لیے جنگ میں شامل ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ کے عوام امن اور استحکام چاہتے ہیں اور وہ کسی ایسے تنازع کا حصہ نہیں بننا چاہتے جس سے خطے میں مزید تباہی اور عدم استحکام پیدا ہو۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی پر خود سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اس مقصد کے لیے دفاعی سازوسامان کی خریداری پر اربوں ڈالر خرچ کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ ایک بڑا عالمی تجارتی شعبہ ہے اور اسے کسی ملک کی جانب سے خیراتی مدد کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔

الحبتور نے مزید کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کے عوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ امن اور استحکام کے ساتھ زندگی گزاریں اور اپنے مستقبل کے فیصلے خود کریں۔ ان کے مطابق خطے کو ایسی جنگوں کا میدان نہیں بننا چاہیے جن کا مقصد بڑی طاقتوں کے مفادات کا تحفظ ہو۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی ممالک کی جانب سے اس طرح کے بیانات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ خطے کے کئی ممالک موجودہ جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کرنا چاہتے ہیں اور سفارتی حل کو ترجیح دے رہے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button