امریکاتازہ ترین

خلیجی کشیدگی سے امریکی تیل کمپنیوں کو بڑا فائدہ، 63 ارب ڈالر اضافی منافع کا امکان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور خلیج کے اہم سمندری راستوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں ہلچل پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے امریکی تیل و گیس کمپنیوں کو غیر معمولی مالی فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اندازہ لگایا جا رہا ہے کہ انہیں مجموعی طور پر تقریباً 63 ارب ڈالر تک اضافی منافع حاصل ہو سکتا ہے۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد بڑھتے ہوئے خطرات کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئی ہیں۔ چونکہ خلیج کا خطہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے، اس لیے وہاں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی سپلائی کو متاثر کر سکتی ہے۔

اسی صورتحال کے نتیجے میں امریکہ کی بڑی توانائی کمپنیوں، خاص طور پر شیل آئل اور گیس پیدا کرنے والی کمپنیوں کو زیادہ قیمتوں کا فائدہ ملنے کی توقع ہے۔ توانائی کے شعبے کے ماہرین کے مطابق اگر تیل کی قیمتیں طویل عرصے تک بلند رہتی ہیں تو امریکی کمپنیوں کی آمدنی میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ بحران نے ایک بار پھر یہ واضح کر دیا ہے کہ عالمی توانائی مارکیٹ مشرقِ وسطیٰ کے حالات سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔ جیسے ہی خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے، عالمی منڈی میں قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں اور متبادل سپلائرز کو فائدہ پہنچتا ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عام صارفین اور ترقی پذیر ممالک پر پڑ سکتا ہے۔ بڑھتی ہوئی قیمتیں نہ صرف ایندھن بلکہ عالمی معیشت، نقل و حمل اور صنعتی شعبوں کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اگر خلیج میں کشیدگی برقرار رہی یا آبنائے ہرمز میں مزید رکاوٹیں پیدا ہوئیں تو عالمی توانائی مارکیٹ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ اور توانائی کے عالمی نظام میں بڑی تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button