(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
چین کے صدر Xi Jinping نے تائیوان کی آزادی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ بیجنگ کسی بھی صورت میں علیحدگی کی کوششوں کو برداشت نہیں کرے گا، اور اسے خطے میں امن کے لیے بڑا خطرہ قرار دیا ہے۔
یہ بیان انہوں نے بیجنگ میں تائیوان کی اپوزیشن جماعت کی رہنما Cheng Li-wun سے ملاقات کے دوران دیا، جو کشیدگی کم کرنے کے لیے چین کے دورے پر ہیں۔ دونوں رہنماؤں کی ملاقات گریٹ ہال آف دی پیپل میں ہوئی، جہاں دو طرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور تائیوان ایک ہی خاندان کا حصہ ہیں اور دونوں جانب کے عوام امن، ترقی اور تعاون چاہتے ہیں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ “تائیوان کی آزادی” خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اور چین اسے کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ چین کی طویل مدتی پالیسی “اتحاد” ہے اور اس مقصد کے لیے سیاسی اعتماد، رابطوں اور تعاون کو فروغ دینا ضروری ہے۔ ان کے مطابق دونوں اطراف کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو مستقبل میں کشیدگی کو کم کریں اور مشترکہ ترقی کی راہ ہموار کریں۔
دوسری جانب تائیوان کی حکمران جماعت نے اس ملاقات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ حکومتی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ چین کو براہِ راست منتخب حکومت سے بات کرنی چاہیے، نہ کہ اپوزیشن کے ذریعے، جبکہ بیجنگ موجودہ صدر کو علیحدگی پسند قرار دے کر ان سے مذاکرات سے انکار کرتا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب چین نے حالیہ مہینوں میں تائیوان کے گرد فوجی دباؤ میں اضافہ کیا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس طرح کے سفارتی رابطے کشیدگی کم کرنے میں مددگار ہو سکتے ہیں، تاہم بنیادی اختلافات اب بھی برقرار ہیں۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ چین تائیوان کے معاملے پر اپنے مؤقف میں کوئی نرمی دکھانے کے لیے تیار نہیں، جبکہ دوسری جانب تائیوان اپنی سیاسی خودمختاری برقرار رکھنے پر زور دیتا ہے، جس کے باعث خطہ مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔