
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران فضائی سرگرمیوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی فضائیہ ایران، لبنان اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر بیک وقت کارروائیاں کر رہی ہے، جبکہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے ساتھ قریبی فوجی رابطہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ دفاعی ذرائع کے مطابق موجودہ فضائی مہم حالیہ برسوں کی کسی بھی کارروائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع اور تیز رفتار ہے۔
اسرائیلی فوجی حکام کے مطابق آپریشن کے ابتدائی دنوں میں تہران سمیت ایران کے مختلف علاقوں پر متعدد بڑے فضائی حملے کیے گئے، جن میں سینکڑوں ہتھیار استعمال کیے گئے۔ اطلاعات کے مطابق خطے کی فضاؤں میں اس وقت اسرائیلی اور امریکی طیاروں کے ساتھ ساتھ بعض خلیجی ممالک، برطانیہ اور فرانس کے طیارے بھی سرگرم ہیں، جس کے باعث فضائی حدود انتہائی مصروف اور پیچیدہ ہو چکی ہیں۔
فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وسیع پیمانے کی کارروائی کو ممکن بنانے میں امریکہ اور اسرائیل کے درمیان قائم کمانڈ اور رابطے کا نظام اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اسرائیل کی فوجی سرگرمیوں کو اب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے دائرہ کار میں شامل کیے جانے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ہم آہنگی مزید تیز اور مؤثر ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اسرائیل کا بنیادی مقصد ایران کی فوجی صلاحیت، خاص طور پر میزائل پروگرام اور ممکنہ جوہری ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے تاکہ مستقبل میں اسرائیل یا اس کے اتحادیوں کو خطرہ کم سے کم ہو۔ تاہم فوجی حکام یہ بھی تسلیم کرتے ہیں کہ موجودہ کارروائی کے بعد بھی ایران کی تمام عسکری صلاحیت مکمل طور پر ختم ہونا ممکن نہیں۔
اسرائیلی حکام کے مطابق موجودہ مہم کو جلد مکمل کرنے کی خواہش ضرور ہے، لیکن فوجی اہداف اس نوعیت کے ہیں جن کے مکمل ہونے میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد صرف فوری فوجی برتری حاصل کرنا نہیں بلکہ طویل مدت کے لیے سکیورٹی صورتحال کو بہتر بنانا بھی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صرف فوجی کارروائیاں خطے کے بحران کا مکمل حل نہیں ہو سکتیں۔ ان کے مطابق اگر ایران میں سیاسی صورتحال میں تبدیلی آتی ہے تو اس کے لیے بین الاقوامی سفارتی کوششیں بھی ضروری ہوں گی، کیونکہ جنگ کے بعد ملک میں قیادت اور نظام کا مستقبل ایک بڑا سوال بن سکتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے خطے کی فضائی حدود کو غیر معمولی طور پر حساس بنا دیا ہے۔ اگر کسی طیارے کو نقصان پہنچتا ہے یا کسی پائلٹ کو ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑتی ہے تو اس سے نہ صرف فوجی بلکہ سیاسی پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے مختلف ممالک کی افواج مسلسل رابطے اور فضائی کنٹرول کے پیچیدہ نظام کے ذریعے صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔



