
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری ایران۔امریکہ۔اسرائیل کشیدگی کے دوران ایرانی حکام اور بعض تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ دعوے سامنے آ رہے ہیں کہ خطے میں موجود کئی امریکی فوجی اڈے شدید حملوں کے بعد تباہ یا غیر فعال ہو چکے ہیں۔ تاہم دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے پہلے ان اڈوں کے کردار اور خطے کے دفاعی نظام میں ان کی اہمیت کو جاننا ضروری ہے۔
امریکی اڈوں کا اصل کردار
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈے صرف حملہ آور کارروائیوں کے لیے نہیں بلکہ ایک وسیع دفاعی نیٹ ورک کا حصہ ہیں۔ ان اڈوں میں جدید ریڈار سسٹمز، سیٹلائٹ نگرانی، الیکٹرانک جنگی نظام، انٹیلی جنس مراکز اور میزائل دفاعی نظام شامل ہوتے ہیں۔
یہ نیٹ ورک خطے میں میزائل حملوں کا ابتدائی طور پر سراغ لگانے اور اتحادی ممالک کو فوری خبردار کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ماضی میں ایران سے داغے گئے کئی میزائل انہی ریڈار سسٹمز کے ذریعے بروقت پکڑے گئے، جس کے بعد اسرائیلی فضائی دفاعی نظام نے انہیں راستے میں تباہ کیا۔
فضائی دفاعی نظام پر ممکنہ اثرات
بعض دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ان ریڈار اور نگرانی کے نظام کو نقصان پہنچا ہے تو اس سے اسرائیل اور خلیجی ممالک کے فضائی دفاعی نظام پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق بعض حملوں کے بعد میزائل حملوں کی پیشگی اطلاع کا وقت کم ہو گیا ہے، جس سے دفاعی نظام کو ردعمل دینے کے لیے کم وقت ملتا ہے۔

ایران کے میزائل پروگرام کی مختلف اقسام
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے میزائل نظام کو عمومی طور پر تین مختلف سطحوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
1. پہلی نسل کے میزائل:
شہاب، قیام، فتح اور ذوالفقار جیسے میزائل اس زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی رفتار اور ٹیکنالوجی نسبتاً محدود ہے، تاہم ان کی بڑی تعداد ایران کے اسلحہ ذخیرے میں موجود ہے۔ یہ میزائل زیادہ تر قریبی اہداف، خصوصاً خلیجی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔
2. درمیانی درجے کے میزائل:
قدر، عماد اور خیبر شکن جیسے میزائل نسبتاً زیادہ طاقتور اور تیز رفتار سمجھے جاتے ہیں۔ دفاعی ماہرین کے مطابق ان میزائلوں کی رفتار آواز کی رفتار سے کئی گنا زیادہ ہو سکتی ہے اور ان کے وارہیڈ کا وزن بھی زیادہ ہوتا ہے۔

3. جدید ترین میزائل نظام:
خرمشہر-4، سجیل، فتح اور حاج قاسم جیسے میزائل ایران کے جدید ترین ہتھیاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق ان میں سے کچھ میزائل ہائپرسونک رفتار کے قریب پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انہیں زیادہ درست اور طاقتور سمجھا جاتا ہے۔
امریکی فوجی موجودگی میں تبدیلی
کچھ رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ خطے میں اپنی فوجی حکمت عملی کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے اور بعض بحری اثاثوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے یا اتحادی ممالک کے ساتھ نئے دفاعی انتظامات پر غور کیا جا رہا ہے۔ تاہم امریکی حکام کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ خطے میں فوجی موجودگی بدستور برقرار ہے۔
انفراسٹرکچر پر حملوں کی حکمت عملی
ماہرین کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل دونوں جانب سے توانائی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ بعض مبصرین اسے دباؤ بڑھانے اور دشمن کی معیشت کو کمزور کرنے کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جبکہ دیگر کے مطابق یہ کشیدگی میں اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔
مجموعی صورتحال
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنگی حالات میں دونوں فریقوں کی جانب سے مختلف دعوے سامنے آتے ہیں، جن کی مکمل تصدیق اکثر فوری طور پر ممکن نہیں ہوتی۔ تاہم ایک بات واضح ہے کہ خطے میں میزائل ٹیکنالوجی، ڈرون حملے اور انٹیلی جنس جنگ اس تنازع کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو مشرقِ وسطیٰ میں فوجی توازن اور دفاعی حکمت عملیوں میں مزید تبدیلیاں دیکھنے کو مل سکتی ہیں، جو عالمی سلامتی اور توانائی کی منڈیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔



