
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ):
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور فوجی کارروائیوں کے بعد دونوں جانب ہونے والے نقصانات سے متعلق نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق حالیہ لڑائی ایک طرح کی طویل تکنیکی اور عسکری جنگِ استنزاف میں تبدیل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جس میں جدید دفاعی نظام اور میزائل صلاحیتیں براہِ راست متاثر ہو رہی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں کے نتیجے میں 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شامل تھے۔ دوسری جانب ایران کی جانب سے اسرائیل پر کیے گئے حملوں میں 13 افراد ہلاک جبکہ دو ہزار سے زائد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شدید فضائی حملوں کے نتیجے میں ایران کے متعدد بیلسٹک میزائل لانچنگ سائٹس تباہ ہو چکے ہیں۔ بعض اندازوں کے مطابق ایران کے میزائل لانچنگ مراکز کا بڑا حصہ نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث طویل جنگ کی صورت میں ایران کو اپنے میزائل ذخائر میں کمی کا سامنا ہو سکتا ہے۔
اس صورتحال میں ایران نے بڑی تعداد میں ڈرون حملوں کا استعمال بڑھا دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی دنوں میں ایک ہزار سے زائد ڈرون استعمال کیے گئے۔ ماہرین کے مطابق ڈرون نسبتاً سستے اور آسانی سے تیار ہونے والے ہتھیار ہوتے ہیں، اس لیے طویل جنگ میں انہیں مخالف کے دفاعی نظام کو تھکانے کے لیے مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
دوسری جانب امریکی افواج کو بھی کچھ اہم نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اردن میں امریکی تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام کے ریڈار کو نقصان پہنچا جبکہ قطر میں ابتدائی انتباہی ریڈار بھی متاثر ہوا۔ اس کے علاوہ جنگ کے آغاز سے اب تک امریکہ کے سات MQ-9 ڈرون بھی تباہ یا ضائع ہو چکے ہیں۔

مزید یہ کہ بحرین میں واقع امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر کو بھی میزائل حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ اگرچہ ان حملوں کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم سیکیورٹی ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت خطے میں کشیدگی کے بڑھنے کی نشاندہی کرتی ہے۔
امریکی دفاعی حلقوں میں اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی جا رہی ہے کہ جنگ کی رفتار کے باعث انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر دفاعی ہتھیاروں کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق موجودہ رفتار سے ہتھیاروں کا استعمال جاری رہا تو ان کی پیداوار اور ذخائر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمتِ عملی اب صرف فوجی اہداف تک محدود نہیں بلکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور علاقائی اڈوں پر دباؤ ڈال کر عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ اس طرح تہران عالمی معیشت اور سیاسی دباؤ کو استعمال کر کے اپنے مخالفین کو مذاکرات پر مجبور کرنا چاہتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی سیاست پر بھی گہرے پڑ سکتے ہیں۔



