امریکاایرانتازہ ترین

تل ابیب حیفا پر میزائلوں کی بارش شدید نقصانات:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے، جہاں دونوں جانب سے شدید میزائل حملے، فوجی دعوے اور عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق اسرائیلی شہر تل ابیب اور حیفہ پر میزائل حملوں کی نئی لہر دیکھی گئی، جس سے مختلف علاقوں میں نقصان کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اسی دوران حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر درجنوں راکٹ فائر کیے، جن میں ایک اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔

ایران کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس نے ایک امریکی ایف-18 جنگی طیارہ مار گرایا ہے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ دوسری طرف امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے، اور رپورٹس کے مطابق امریکی افواج ممکنہ زمینی کارروائی کے لیے تیاری کر رہی ہیں، جبکہ ایران نے بھی اپنی دفاعی تیاریوں کی ویڈیوز جاری کی ہیں۔

سب سے زیادہ تشویشناک صورتحال آبنائے ہرمز کی بندش ہے، جو عالمی توانائی سپلائی کے لیے نہایت اہم راستہ ہے۔ اس کی بندش کے باعث عالمی سطح پر تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے اور اطلاعات ہیں کہ ہزاروں جہاز اس اہم سمندری راستے میں پھنس گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات سمیت کئی ممالک اس راستے کو کھلوانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں، جبکہ ایران نے کسی بھی مداخلت پر سخت ردعمل کی دھمکی دی ہے۔

ایرانی حکام نے سخت بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران ایک قدیم اور مضبوط ریاست ہے جسے ختم کرنا ممکن نہیں، جبکہ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے بڑی تعداد میں میزائل داغے لیکن امریکی دفاعی نظام نے انہیں ناکام بنا دیا۔

اسرائیلی نمائندوں نے بھی صورتحال کی سنگینی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلسل سائرن بجنے سے شہری زندگی متاثر ہو رہی ہے اور عوام کو بار بار پناہ گاہوں میں جانا پڑ رہا ہے، جس سے انسانی مسائل بڑھ رہے ہیں۔

ادھر عالمی ماہرین اور سابق فوجی حکام نے بھی اس جنگ کے نتائج پر سوالات اٹھائے ہیں۔ بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تنازع طویل ہو سکتا ہے اور امریکہ کو واضح حکمت عملی کے بغیر مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مجموعی طور پر مشرق وسطیٰ کی صورتحال انتہائی نازک ہو چکی ہے، جہاں فوجی کارروائیاں، توانائی بحران اور عالمی سیاسی دباؤ ایک ساتھ بڑھ رہے ہیں، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر فوری سفارتی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button