
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات اور کسی خفیہ ڈیل کی خبروں کے بعد ایران کے اندر بے چینی اور خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک سینئر ایرانی شخصیت سے رابطے کے اشارے نے عوام اور اپوزیشن حلقوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق اس ممکنہ رابطے کو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے جوڑا جا رہا ہے، جس پر ایران کے اندر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر اقتدار کے اندر ہی کسی شخصیت کے ساتھ ڈیل کی گئی تو یہ عوام کے لیے مایوس کن ہوگا اور اسے ایک نظام سے دوسرے نظام کی منتقلی سمجھا جائے گا، نہ کہ حقیقی تبدیلی۔
ایرانی حکام نے ان خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے عمل کا حصہ نہیں بنیں گے جسے وہ "دھوکہ دہی کی حکمت عملی” قرار دیتے ہیں۔ سرکاری مؤقف کے مطابق بیرونی قوتیں ایران کے اندرونی نظام کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم ملک کی خودمختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا ایک ایسے حل کی تلاش میں ہے جس کے ذریعے وہ طویل جنگ سے بچتے ہوئے سیاسی کامیابی حاصل کر سکے۔ اس تناظر میں بعض مبصرین کا خیال ہے کہ ایران کے موجودہ نظام کے اندر کسی طاقتور شخصیت کے ذریعے توازن برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا راستہ نکالا جا سکتا ہے۔
تاہم ایران کے اندر اپوزیشن اور عام شہریوں کا ایک بڑا طبقہ اس حکمت عملی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ کے بعد بھی بنیادی نظام میں کوئی تبدیلی نہ آئی تو عام عوام کو اس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں ہوگا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملک میں بنیادی سہولیات جیسے بجلی، پانی اور گیس کی فراہمی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

دوسری جانب امریکا کی جانب سے خطے میں فوجی موجودگی بڑھانے کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں، جس سے کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق آبنائے ہرمز اور اہم ایرانی جزائر پر ممکنہ کارروائیوں پر بھی غور کیا جا رہا ہے، جو صورتحال کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔
پاکستان نے بھی اس معاملے میں ممکنہ ثالثی کا عندیہ دیا ہے، جہاں اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے سہولت فراہم کرنے کی پیشکش کی گئی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی باضابطہ ملاقات یا معاہدے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت پیچیدہ ہے، جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب زمینی حقائق مسلسل بدل رہے ہیں۔ ایرانی عوام کے خدشات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے کو صرف سیاسی نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی قبولیت حاصل کرنا ہوگی، ورنہ عدم استحکام برقرار رہ سکتا ہے۔
موجودہ حالات میں ایران کے اندر بے چینی، جنگ کے اثرات اور عالمی سفارتی سرگرمیاں اس بحران کو ایک نئے اور غیر یقینی مرحلے میں داخل کر رہی ہیں، جس کے نتائج آنے والے دنوں میں واضح ہو سکتے ہیں۔



