جنیوا مذاکرات سے قبل روس اور یوکرین کا فوجی دباؤ میں اضافہ، کیف کا وفد روانہ

روس اور یوکرین کے درمیان تقریباً چار سال سے جاری جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں یوکرینی وفد جنیوا کے لیے روانہ ہو گیا ہے، جہاں امریکا کی ثالثی میں سہ فریقی مذاکرات کا تیسرا دور متوقع ہے۔

یوکرین کے چیف آف اسٹاف کیریلو بودانوف نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ وہ وفد کی قیادت کرتے ہوئے سوئٹزرلینڈ جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس دور میں “سنجیدہ اور بامقصد” بات چیت کی توقع ہے، تاہم انہوں نے اشارہ دیا کہ اب تک فریقین کے مؤقف میں واضح فرق موجود ہے۔
مذاکرات کا پس منظر
اس سے قبل جنوری اور فروری میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے دو ادوار میں بھی امریکا نے ثالثی کا کردار ادا کیا تھا، مگر کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہ آ سکی۔ جنوری کی ملاقات 2022 میں روسی حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلی کھلی سفارتی بات چیت تھی۔

یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ مذاکرات نتیجہ خیز ہونے چاہئیں، لیکن اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ “فریقین مختلف موضوعات پر بات کر رہے ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض اوقات رعایتوں کی بات صرف یوکرین کے تناظر میں کی جاتی ہے، روس کے حوالے سے نہیں۔
سب سے بڑا تنازع: ڈونباس کا مستقبل
مذاکرات میں سب سے حساس معاملہ مشرقی یوکرین کے ڈونباس خطے کا ہے، جس کے بڑے حصے پر روس کا قبضہ ہے۔ ماسکو کا مطالبہ ہے کہ کیف اپنی افواج مکمل طور پر وہاں سے واپس بلائے اور روس کے الحاق کو تسلیم کرے۔

دوسری جانب یوکرین موجودہ محاذی لائنوں پر جنگ روکنے اور مستقبل میں روسی حملوں سے بچاؤ کے لیے مضبوط سکیورٹی ضمانتوں کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کیف یکطرفہ فوجی انخلا کو مسترد کر چکا ہے۔
میدانِ جنگ میں کشیدگی برقرار
سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ زمینی محاذ پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یوکرین نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے روس کے مغربی علاقوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر بڑا ڈرون حملہ کیا۔ روسی حکام کے مطابق 12 گھنٹے تک جاری رہنے والے حملوں میں 200 سے زائد ڈرون مار گرائے گئے اور بعض علاقوں میں عارضی طور پر حرارتی نظام متاثر ہوا۔

ادھر روسی فوج کے سربراہ جنرل ویلری گراسیموف کا کہنا ہے کہ رواں ماہ مشرقی یوکرین میں 12 بستیوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور کارروائیاں “تمام سمتوں میں جاری” ہیں۔
عوامی ردِعمل اور عالمی نظریں
ماسکو سے رپورٹس کے مطابق روسی عوام اس نئے مذاکراتی دور کے حوالے سے زیادہ پُرامید نہیں دکھائی دیتے، کیونکہ گزشتہ دو ادوار میں کوئی بڑی پیش رفت نہ ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنیوا مذاکرات اس جنگ کے مستقبل کے لیے اہم موڑ ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم فوجی سرگرمیوں میں اضافے نے سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی برادری کی نظریں اب اس بات پر ہیں کہ آیا یہ مذاکرات کسی حقیقی جنگ بندی یا سیاسی سمجھوتے کی بنیاد رکھ سکیں گے یا نہیں۔



