
واشنگٹن/تل ابیب:(تازہ حالات خصوصی رپورٹ) امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک ایسے موڑ پر پہنچ گئی ہے جہاں کسی بھی وقت بڑے پیمانے پر جنگ چھڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو سخت وارننگ دیتے ہوئے اپنا جدید بحری بیڑا (آرمادا) خطے کی جانب روانہ کر دیا ہے، جبکہ دوسری جانب اسرائیل نے بھی حملے کی مکمل تیاریوں کا اعلان کر دیا ہے۔
ٹرمپ کا ‘خوبصورت آرمادا’ اور سفارت کاری کی امید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ نے ایک اور طاقتور اور "خوبصورت” بحری بیڑا (آرمادا) ایران کی جانب روانہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "اب دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے، لیکن مجھے اب بھی امید ہے کہ ہم کسی ڈیل تک پہنچ جائیں گے۔” مبصرین کے مطابق ٹرمپ ایک طرف فوجی طاقت دکھا کر ایران کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف مذاکرات کا دروازہ بھی کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔

امریکی حکمتِ عملی: حملے سے قبل بحری ناکہ بندی
عسکری ذرائع کے مطابق، امریکہ ایران پر باقاعدہ حملے سے قبل اس کی بحری ناکہ بندی کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس اسٹریٹجی کا مقصد:
- ایران کی سمندری تجارتی گزرگاہوں کو بند کرنا۔
- چین، روس یا کسی بھی بیرونی ملک سے ایران کو ملنے والی فوجی یا اقتصادی امداد کو روکنا۔
- ایرانی معیشت کو مفلوج کر کے اسے گھٹنوں پر لانا۔
نیتن یاہو کی دھمکی: "تباہی کے لیے تیار رہیں”
اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی تہران کو سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے مکمل تیار ہے، تاہم حتمی فیصلہ صدر ٹرمپ کا ہوگا۔ نیتن یاہو نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ نے اسرائیل کو جدید ترین اسلحہ فراہم کر کے ناقابلِ تسخیر بنا دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "اگر ایران نے اسرائیل پر حملہ کرنے کی جرات کی تو اسے ایسی تباہی دیکھنا پڑے گی جو پہلے کبھی نہیں دیکھی۔”
ٹرمپ کے لیے کڑا امتحان: عبرانی میڈیا کا تجزیہ
اسرائیلی میڈیا ‘معاریف’ (Ma’ariv) کی ایک رپورٹ کے مطابق، صدر ٹرمپ اس وقت شدید دباؤ اور تذبذب کا شکار ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ:
- حملے کا خطرہ: اگر امریکہ حملہ کرتا ہے تو یمن، لبنان اور عراق میں موجود ایرانی نواز پراکسیز خطے میں امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنا سکتی ہیں، جس سے جنگ پورے خطے میں پھیل جائے گی۔
- حملہ نہ کرنے کا نقصان: اگر ٹرمپ کارروائی نہیں کرتے تو ایران کی طاقت میں مزید اضافہ ہو جائے گا اور مستقبل میں اسے روکنا ناممکن ہو جائے گا۔
- اندرونی دباؤ: ٹرمپ پر اسٹیبلشمنٹ اور اتحادیوں کی جانب سے حملے کے لیے شدید دباؤ ہے، اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ بالآخر فوجی کارروائی کا راستہ اپنا سکتے ہیں۔
ایران کی جوابی حکمتِ عملی
ان تمام دھمکیوں کے باوجود ایران خاموش نہیں ہے۔ تہران کی جانب سے ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں تو دوسری جانب جنگی تیاریوں کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے اور خلیج فارس میں امریکی مفادات محفوظ نہیں رہیں گے۔
نتیجہ: مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک ایسے آتش فشاں پر کھڑا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ایک طرف جدید بحری بیڑوں کی آمد ہے اور دوسری طرف ‘ڈیل’ کی باتیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جنگ کی صورت میں نہ صرف خطہ بلکہ عالمی معیشت بھی بری طرح متاثر ہوگی۔



