ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز کی بندش، کھاد کی قلت سے عالمی خوراک کا نظام خطرے میں

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

لندن/دوحہ: ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے صرف تیل ہی نہیں بلکہ عالمی خوراک کے نظام کو بھی شدید خطرے میں ڈال دیا ہے، کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں کھاد (Fertiliser) اسی راستے سے گزرتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال عالمی زرعی پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے، کیونکہ جدید زراعت کا بڑا انحصار کھاد پر ہے، جو فصلوں کی پیداوار بڑھانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔

کھاد کی سپلائی کیوں اہم ہے؟

عالمی رپورٹس کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی تجارت آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، جبکہ نائٹروجن کھاد (یوریا) جیسی اہم مصنوعات بڑی حد تک خلیجی ممالک سے سپلائی ہوتی ہیں۔

یہ کھاد دنیا کی تقریباً آدھی خوراک کی پیداوار میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے، اس لیے اس کی فراہمی میں خلل براہِ راست خوراک کی قلت کا سبب بن سکتا ہے۔

جنگ نے سپلائی چین کیسے متاثر کی؟

ایران جنگ کے بعد:

  • آبنائے ہرمز سے گزرنے والی شپنگ متاثر ہوئی
  • کھاد بنانے والے کارخانے بند یا محدود ہو گئے
  • عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا

رپورٹس کے مطابق کھاد کی قیمتوں میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جبکہ کئی ممالک کو فوری قلت کا سامنا ہے۔

عالمی خوراک پر ممکنہ اثرات

ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو:

  • کسان کم کھاد استعمال کریں گے
  • فصلوں کی پیداوار کم ہو جائے گی
  • گندم، چاول اور مکئی جیسی بنیادی غذائیں مہنگی ہو جائیں گی

خاص طور پر ترقی پذیر ممالک جیسے پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک اس بحران سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

متبادل کیوں ناکافی ہیں؟

اگرچہ کچھ ممالک ذخائر استعمال کر رہے ہیں یا متبادل سپلائی تلاش کر رہے ہیں، لیکن ماہرین کے مطابق:

  • کھاد کے عالمی ذخائر محدود ہیں
  • متبادل راستے اور پیداوار فوری طور پر کمی پوری نہیں کر سکتے
  • سپلائی چین پہلے ہی دباؤ کا شکار ہے

اسی وجہ سے یہ بحران عارضی نہیں بلکہ طویل المدتی اثرات پیدا کر سکتا ہے۔

مستقبل کا خدشہ: عالمی غذائی بحران؟

اقوام متحدہ اور دیگر اداروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ اور بندش جاری رہی تو:

  • عالمی سطح پر خوراک کی قیمتیں بڑھ سکتی ہیں
  • مہنگائی میں اضافہ ہوگا
  • کروڑوں افراد غذائی قلت کا شکار ہو سکتے ہیں

ماہرین کے مطابق یہ بحران 2022 کے یوکرین جنگ کے بعد پیدا ہونے والے غذائی بحران سے بھی زیادہ سنگین ثابت ہو سکتا ہے۔

اہم نکات:

  • آبنائے ہرمز کی بندش سے کھاد کی عالمی سپلائی متاثر
  • کھاد کی قیمتوں میں 30–50 فیصد اضافہ
  • فصلوں کی پیداوار میں کمی اور خوراک مہنگی ہونے کا خدشہ
  • ترقی پذیر ممالک سب سے زیادہ متاثر ہونے کا امکان
  • عالمی غذائی بحران کے خطرات بڑھ گئے
Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button