امریکاتازہ ترین

یمن میں امریکی طیاروں پر حوثیوں کا خوفناک میزائل حملہ اور پائلٹس کی سنسنی خیز واپسی

واشنگٹن (تازہ حالات رپورٹ ) — مشرقِ وسطیٰ کے انتہائی کشیدہ محاذ یمن سے امریکی فضائیہ کی تاریخ کے ایک خطرناک ترین مشن کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ مارچ 2025 میں یمن کی فضاؤں میں حوثی جنگجوؤں نے دو امریکی ایف-16 (F-16) ‘وائلڈ ویزل’ طیاروں پر زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں (SAM) سے ایک ایسا اچانک اور مہلک حملہ کیا، جہاں سے پائلٹس کا زندہ بچ نکلنا کسی معجزے سے کم نہیں تھا۔

امریکی جریدے ‘ایئر اینڈ اسپیس فورسز’ (Air & Space Forces) کی حالیہ تفصیلی رپورٹ کے مطابق، ان پائلٹس نے محض 15 منٹ کے اندر 6 جدید میزائلوں کو چکمہ دیا، جس پر انہیں امریکی فوج کے اعلیٰ ترین اعزازات میں سے ایک ‘سلور اسٹار’ (Silver Star) سے نوازا گیا ہے۔

آپریشن رف رائیڈر اور حوثیوں کا ‘سیم بش’ (SAMbush) جال یہ واقعہ 27 مارچ 2025 کو اس وقت پیش آیا، جب ‘آپریشن رف رائیڈر’ (Operation Rough Rider) کے تحت امریکی بی-2 (B-2) اسپرٹ بمبار طیاروں اور ایف-16 لڑاکا طیاروں نے یمن میں حوثیوں کی بیلسٹک میزائل بنانے والی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ایک پیچیدہ مشن کا آغاز کیا۔

ایف-16 طیارے ‘ہارم ٹارگٹنگ سسٹم’ (HTS) سے لیس تھے اور انہوں نے ریڈار تباہ کرنے والے اپنے ‘اے جی ایم-88’ (AGM-88 HARM) میزائل فائر کیے۔ کارروائی مکمل کرنے کے بعد جب امریکی طیارے بحیرہ احمر کی طرف واپسی کا سفر کر رہے تھے، تب حوثیوں نے ایک انتہائی خطرناک عسکری حکمت عملی جسے ‘سیم بش’ (SAMbush – یعنی میزائل ایمبش) کہا جاتا ہے، کا استعمال کیا۔ حوثیوں نے اس وقت تک اپنے ریڈار بند رکھے جب تک طیارے مڑ نہیں گئے، اور پھر اچانک ریڈار آن کر کے میزائل داغ دیے۔

"میرے پاس بچنے کا صرف ایک موقع تھا” — پائلٹس کی زبانی پائلٹس کے مطابق ان کے پاس میزائلوں سے بچنے کے لیے صرف 15 سے 20 سیکنڈ کا وارننگ ٹائم تھا۔

لیفٹیننٹ کرنل ولیم ‘اسکیٹ’ پارکس: انہوں نے موت کو سامنے دیکھ کر اپنا طیارہ سیدھا آنے والے میزائل کی طرف موڑ دیا۔ یہ ایک انتہائی خطرناک آخری دفاعی حربہ (Last-ditch tactic) تھا۔ میزائل ان کے طیارے کے پروں کے بالکل نیچے سے سنسناتا ہوا گزر گیا۔ وہ بتاتے ہیں، "وہ میزائل اتنا قریب تھا کہ میں کاک پٹ میں اس کی گرجدار آواز سن سکتا تھا۔”

میجر مائیکل ‘ڈینجر’ بلیا: انہوں نے ایک اور میزائل کو تیزی سے اپنی طرف آتے دیکھا۔ انہوں نے سوچا، "میرے پاس بچنے کا بس یہی ایک موقع ہے۔” انہوں نے طیارے کو پوری طاقت سے موڑا اور میزائل محض چند درجن فٹ کے فاصلے سے گزر گیا۔

ایندھن کا بحران اور فضا میں ہنگامی ریسکیو میزائلوں کو چکمہ دینے کے لیے کشش ثقل کو چیلنج کرنے والے ہائی-جی (High-G) مینیوورز کے دوران دونوں طیاروں کا ایندھن خطرناک حد تک تیزی سے جلنے لگا۔ دشمن کے علاقے پر پرواز کرتے ہوئے طیاروں کے انجن بند (Flameout) ہونے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا۔

اس نازک ترین موقع پر امریکی فضائیہ کے ایک فیول ٹینکر طیارے کے عملے نے غیر معمولی خطرہ مول لیا۔ وہ ٹینکر خطرے والے علاقے کے انتہائی قریب پہنچ گیا اور دورانِ پرواز (Mid-air) ان لڑاکا طیاروں میں ایندھن بھرا، جس کی بدولت دونوں ایف-16 بحفاظت اپنے بیس پر واپس پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس بے مثال بہادری پر ٹینکر کے عملے کو ‘ڈسٹنگوئشڈ فلائنگ کراس’ (Distinguished Flying Cross) سے بھی نوازا گیا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button