اسرائیلتازہ ترین

حوثیوں کا اسرائیل پر حملہ، امریکی فوجی زخمی، کشیدگی میں اضافہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں یمن کے حوثی گروہ نے بھی باضابطہ طور پر اس تنازع میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ حوثیوں نے پہلی بار اسرائیل کی جانب بیلسٹک میزائل داغا، جسے اسرائیلی فوج کے مطابق فضا میں ہی ناکام بنا دیا گیا۔

اس پیش رفت کو خطے میں جنگ کے مزید پھیلاؤ کی اہم علامت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ اس سے قبل یہ تنازع بنیادی طور پر ایران، اسرائیل اور امریکا تک محدود تھا۔ اب یمن سے حملے شروع ہونے کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بحیرہ احمر اور عالمی تجارتی راستے بھی مزید خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ یہ کارروائی ایران، لبنان اور دیگر علاقوں میں جاری حملوں کے ردعمل میں کی گئی ہے، اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک "تمام محاذوں پر جارحیت ختم نہیں ہو جاتی”۔ انہوں نے مزید خبردار کیا کہ گروہ براہ راست فوجی مداخلت کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

دوسری جانب سعودی عرب میں واقع امریکی فوجی اڈے پر بھی حالیہ دنوں میں ایرانی حملوں کے نتیجے میں دو درجن سے زائد امریکی فوجی زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک واقعے میں 15 اہلکار پرنس سلطان ایئر بیس پر زخمی ہوئے۔ یہ حملے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے کیے گئے، جس سے خطے میں امریکی تنصیبات پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔

خطے کے مختلف حصوں میں رات بھر حملوں کا سلسلہ جاری رہا، جن میں ایران، لبنان، اسرائیل اور بحرین شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنگ اب کئی محاذوں پر پھیل چکی ہے اور کسی ایک علاقے تک محدود نہیں رہی۔

اسرائیل نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف مزید سخت کارروائیاں کر سکتا ہے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اشارہ دیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو خطے میں مزید فوجی بھیجے جا سکتے ہیں۔ تاہم ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی زمینی مداخلت کی صورت میں سخت جواب دیا جائے گا۔

ادھر امریکی بحریہ کا جدید طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ کروشیا پہنچ گیا ہے، جہاں اسے مرمت اور دیکھ بھال کے لیے لنگر انداز کیا گیا ہے۔ یہ جہاز گزشتہ کئی ماہ سے مشرق وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیوں کا حصہ رہا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جہاں مختلف ممالک اور گروہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف سکیورٹی بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور تجارتی راستوں پر بھی گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

موجودہ حالات میں عالمی برادری کے لیے سب سے بڑا چیلنج کشیدگی کو کم کرنا ہے، کیونکہ اگر یہ تنازع مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button