
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف جاری امریکی-اسرائیلی فوجی مہم میں حصہ لیں۔ ان کے اس بیان کے بعد واشنگٹن اور خلیجی اتحادیوں کے درمیان سفارتی تناؤ کے آثار نمایاں ہونے لگے ہیں۔
گراہم، جو سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر ایک پیغام میں سعودی عرب کے فیصلے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر خلیجی ممالک ایران کے خلاف کارروائی میں شامل نہیں ہوتے تو امریکہ کو ان کے ساتھ دفاعی تعاون کے مستقبل پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران خطے میں طویل عرصے سے عدم استحکام کا باعث رہا ہے اور اس کے خلاف کارروائی مشترکہ مفاد کا معاملہ ہے۔ تاہم خلیجی ممالک کی جانب سے اب تک براہِ راست فوجی شمولیت سے گریز کیا جا رہا ہے۔
خلیجی ممالک کا محتاط مؤقف
دوسری جانب خلیجی حکومتوں نے اب تک جنگ میں براہِ راست حصہ لینے کے بجائے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے اقوام متحدہ میں سفیر جمال المشراخ نے واضح کیا کہ ان کا ملک فوجی کارروائیوں میں شامل نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک مسلسل مذاکرات، سفارت کاری اور کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں۔ ان کے مطابق خلیجی ریاستوں نے اپنے اتحادیوں کو یہ بھی بتا دیا ہے کہ ان کی سرزمین ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔
خطے میں حملوں کے بعد تشویش
ایران اور امریکہ-اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے آغاز کے بعد خلیجی خطہ بھی براہِ راست اس تنازع کے اثرات محسوس کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران سے منسلک میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، کویت اور قطر میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ سعودی عرب کے اندر بھی بعض فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق سعودی عرب میں واقع پرنس سلطان ایئر بیس بھی حملوں کی زد میں آیا تھا، جس کے بعد خطے میں سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
امریکہ کے اندر بھی تنقید
اس جنگ کے حوالے سے امریکہ کے اندر بھی مختلف سیاسی حلقوں میں اختلاف رائے پایا جا رہا ہے۔ بعض امریکی قانون سازوں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف نئی جنگ امریکی عوام کی ترجیحات سے مطابقت نہیں رکھتی۔
امریکی کانگریس کے رکن رو کھنہ نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک اور بڑی جنگ امریکہ کی سابقہ پالیسیوں سے متصادم ہے۔ ان کے مطابق سابق صدر ٹرمپ خود ماضی میں عراق اور لیبیا کی جنگوں کو غلط قرار دے چکے ہیں اور امریکی عوام کی بڑی تعداد مزید جنگوں کے خلاف ہے۔
خلیجی قیادت کی تشویش
تجزیہ کاروں کے مطابق سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس بات سے بھی پریشان ہیں کہ اگر وہ جنگ میں براہِ راست شامل ہو جاتے ہیں تو ایران کی جانب سے مزید حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر تیل کی تنصیبات، بندرگاہوں اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس جیسے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی وجہ ہے کہ خلیجی قیادت اس تنازع میں براہِ راست فوجی کردار سے گریز کرتے ہوئے سفارتی حل کی تلاش کو ترجیح دے رہی ہے، کیونکہ جنگ کے پھیلنے کی صورت میں پورے خطے کی سلامتی اور معیشت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔



