
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )تہران / تل ابیب: ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے دوران سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق اسرائیل نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک جدید بیلسٹک میزائل کے ذریعے نشانہ بنایا جو فضا سے نکل کر دوبارہ زمین پر گرا۔ اس کارروائی کو اسرائیلی فوجی مہم “آپریشن ایپک فیوری” کا اہم ترین مرحلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے میں “بلو اسپیرو” (Blue Sparrow) نامی جدید میزائل استعمال کیا گیا جو پہلے فضا کی بالائی حد تک پہنچتا ہے اور پھر انتہائی تیز رفتاری سے ہدف پر آ گرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس میزائل کی رینج تقریباً 1240 میل تک ہے اور اسے اس انداز میں تیار کیا گیا ہے کہ یہ جدید فضائی دفاعی نظاموں کو دھوکہ دے سکے۔
حملے کی منصوبہ بندی کیسے کی گئی؟
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے حملے سے پہلے ایک حکمت عملی کے تحت یہ تاثر دیا کہ فوجی سرگرمیاں ہفتہ وار تعطیل کے باعث کم ہو رہی ہیں۔ اسرائیلی فوجی قیادت نے جان بوجھ کر ایسی تصاویر اور معلومات جاری کیں جن سے ظاہر ہو کہ فوجی حکام شبات (یہودی ہفتہ وار تعطیل) منانے کے لیے گھروں کو جا رہے ہیں۔

لیکن درحقیقت اعلیٰ فوجی افسران خفیہ طور پر دوبارہ کمانڈ سینٹرز میں واپس آ گئے اور حملے کی تیاری شروع کر دی۔
حملہ کیسے کیا گیا؟
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی F-15 لڑاکا طیارے صبح تقریباً 7:30 بجے ایران کی سمت روانہ ہوئے۔ تقریباً دو گھنٹے بعد انہوں نے تہران میں واقع سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کی جانب 30 سے زائد میزائل داغے جن میں Blue Sparrow میزائل بھی شامل تھے۔
یہ میزائل پہلے فضا کی بالائی سطح تک پہنچا اور پھر تیزی سے نیچے آ کر اپنے ہدف پر گرا۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کے ملبے کے کچھ حصے مغربی عراق تک پہنچنے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

موساد کا خفیہ نیٹ ورک
اس کارروائی میں اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ رپورٹس کے مطابق موساد نے طویل عرصے تک ایرانی قیادت اور ان کے سکیورٹی گارڈز کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔
بتایا جاتا ہے کہ خفیہ کیمروں اور نگرانی کے نظام کے ذریعے سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ میں آنے جانے والے محافظوں کے شیڈول اور نقل و حرکت کا مکمل ڈیٹا حاصل کیا گیا تھا، جس سے اسرائیلی حکام کو حملے کے لیے موزوں وقت کا تعین کرنے میں مدد ملی۔
حملے کے دوران مواصلاتی نظام بھی متاثر
اسرائیلی فوج کے مطابق حملے کے وقت تہران کے اس علاقے میں موبائل فون ٹاورز کو بھی متاثر کیا گیا تاکہ سکیورٹی اہلکار کسی ممکنہ خطرے کی اطلاع نہ دے سکیں۔
جنگ کا نیا مرحلہ
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کا ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔ جدید میزائل ٹیکنالوجی، خفیہ نگرانی اور الیکٹرانک جنگی حربوں کے امتزاج نے اس کارروائی کو جدید دور کی پیچیدہ ترین فوجی کارروائیوں میں شامل کر دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے حملے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل کی جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ انٹیلی جنس، سائبر اور اسپیس ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی لڑی جائیں گی۔



