ایرانتازہ ترینچین

روس اور چین ایران کی کیسے مدد کر رہے ہیں؟ الیکٹرانک جنگ نے میدانِ جنگ بدل دیا:

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایک نئی قسم کی جنگ سامنے آ رہی ہے جس میں ٹینکوں اور میزائلوں سے زیادہ اہمیت انٹیلی جنس، سیٹلائٹ ڈیٹا اور الیکٹرانک نظام کو حاصل ہو گئی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق روس اور چین کی تکنیکی اور انٹیلی جنس مدد نے ایران کو میدانِ جنگ میں پہلے سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی صلاحیت دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بعض امریکی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ Vladimir Putin کی قیادت میں Russia نے ایران کو حساس انٹیلی جنس فراہم کی، جس میں مشرقِ وسطیٰ میں موجود امریکی جنگی جہازوں اور فوجی طیاروں کی ممکنہ پوزیشنز بھی شامل تھیں۔ اگرچہ ماسکو نے ان الزامات کی تردید کی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق جدید جنگ میں معلومات کی برتری فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس محدود فوجی سیٹلائٹس ہیں، جس کے باعث اسے سمندر میں حرکت کرنے والے اہداف کو مسلسل ٹریک کرنے میں مشکلات ہوتی ہیں۔ اس خلا کو روس کے سیٹلائٹ نیٹ ورک نے جزوی طور پر پورا کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ روسی نگرانی کے سیٹلائٹس ایران کو مسلسل تصاویر اور ڈیٹا فراہم کر سکتے ہیں جس سے اہداف کی نشاندہی آسان ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب China کا کردار نسبتاً خاموش لیکن اہم بتایا جاتا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق چین نے گزشتہ برسوں میں ایران کو جدید ریڈار نظام فراہم کیے اور اس کے نیویگیشن نظام کو امریکی جی پی ایس کے بجائے چینی سیٹلائٹ نیٹ ورک BeiDou سے جوڑنے میں مدد دی۔ اس سے ایران کو جنگی کارروائیوں میں بہتر نیویگیشن اور ٹارگٹنگ کی سہولت مل سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق چین کے فراہم کردہ بعض ریڈار نظام خاص طور پر اسٹیلتھ طیاروں کی نشاندہی کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی کم فریکوئنسی لہروں کے ذریعے کام کرتی ہے جس سے جدید اسٹیلتھ طیاروں کو بھی پکڑنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔

ادھر امریکا اور اسرائیل بھی اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کی انٹیلی جنس ایجنسیاں ایران کے فوجی ڈھانچے اور Islamic Revolutionary Guard Corps کے کمانڈ مراکز کی مسلسل نگرانی کر رہی ہیں۔ ابتدائی حملوں میں ایران کے کئی ریڈار نظام اور دفاعی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا تاکہ ایرانی فضائی دفاع کو کمزور کیا جا سکے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع میں الیکٹرانک جنگ اور معلوماتی برتری انتہائی اہم ہو گئی ہے۔ جس فریق کے پاس بہتر سیٹلائٹ ڈیٹا، ریڈار نظام اور انٹیلی جنس معلومات ہوں گی، وہ میدانِ جنگ میں زیادہ مؤثر کارروائی کر سکے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے اسٹریٹجک مقابلے کی نشاندہی کرتی ہے جہاں براہِ راست فوجی مداخلت کے بجائے ٹیکنالوجی، معلومات اور الیکٹرانک جنگ اہم ہتھیار بن چکے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button