ایرانتازہ ترین

پاسدارانِ انقلاب کی بڑی جنگی مشقیں: ایران کے نئے ڈرونز اور میزائلوں نے تہلکہ مچا دیا!

(تازہ حالات رپورٹ )ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کی زمینی افواج نے ملک کے جنوبی ساحلی علاقوں اور ایرانی جزائر کے قریب وسیع پیمانے پر فوجی مشقیں کی ہیں۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق ان مشقوں میں جدید جنگی حکمتِ عملی اور نئے ہتھیاروں کا عملی مظاہرہ کیا گیا، جسے خطے کی بدلتی ہوئی سیکیورٹی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ مشقیں ایسے وقت میں کی گئیں جب امریکہ ایران کے خلاف ممکنہ فضائی کارروائی کے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔ اگرچہ امریکی حکام کی جانب سے کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں کی گئی، تاہم خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث عسکری سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔

جدید ڈرونز اور نیا میزائل سسٹم

ایرانی حکام کے مطابق مشقوں میں مائیکرو ڈرونز اور "رضوان” نامی لوئٹرنگ میونیشنز (خودکار حملہ آور ڈرون) کا استعمال کیا گیا، جو ہدف کی نشاندہی کرنے کے بعد معلومات بڑے ڈرون، مثلاً "شاہد-136″، کو منتقل کرتے ہیں تاکہ حتمی حملہ کیا جا سکے۔ یہ طریقہ کار جدید نیٹ ورک بیسڈ وارفیئر کی عکاسی کرتا ہے، جس میں مختلف ڈرون سسٹمز آپس میں مربوط ہو کر کارروائی کرتے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کی خصوصی فورسز نے ساحل کے قریب دشمن کی ممکنہ پیش قدمی کو روکنے کی مشقیں بھی کیں۔ اس دوران ساحل سے سمندر کی جانب فائرنگ، قربتی فیوز (proximity-fused) گولوں کا استعمال اور بھاری توپخانے کی مشق شامل تھی، جس کا مقصد ساحلی تنصیبات کے دفاع کو مضبوط بنانا بتایا گیا۔

ایرانی زمینی افواج کو ایک نیا میزائل سسٹم بھی فراہم کیا گیا ہے، جس میں جدید نیویگیشن نظام، زیادہ درست نشانہ لگانے کی صلاحیت اور مضبوط وارہیڈ شامل ہیں جو قلعہ بند اہداف اور بنکروں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

دوسری جانب ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے بھی حالیہ خطاب میں دفاعی میدان میں "ڈیجیٹل خودمختاری” کو قومی سلامتی کا لازمی جزو قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ترکیہ اب اپنے دفاعی سافٹ ویئر اور ٹیکنالوجی خود تیار کر کے دنیا کو برآمد کر رہا ہے۔ انہوں نے نیول ڈرون "سنجر”، "بیرقدار” ڈرونز اور "ٹی سی جی انادولو” جہاز کو نیٹو مشقوں میں کامیابی کی مثال قرار دیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور ترکیہ دونوں کی جانب سے دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ خلیج کے ساحلی علاقے پہلے ہی عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک دلچسپی کا مرکز ہیں، اور کسی بھی ممکنہ فوجی کشیدگی کے اثرات عالمی منڈیوں اور توانائی کی سپلائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

فی الحال صورتحال پر عالمی برادری کی گہری نظر ہے، جبکہ خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عسکری تیاریوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button