
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران جنگ کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (IEA) نے اسٹریٹجک ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل جاری کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدام عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قابو میں رکھنے اور توانائی کی فراہمی کو مستحکم بنانے کے لیے کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ای اے کے رکن ممالک کے توانائی حکام کے ہنگامی اجلاس میں اس تجویز پر غور کیا گیا، جس کے تحت رکن ممالک اپنے ہنگامی ذخائر سے بڑی مقدار میں تیل مارکیٹ میں لا سکتے ہیں۔ اگر یہ فیصلہ منظور ہو جاتا ہے تو یہ آئی ای اے کی تاریخ میں تیل کے ذخائر کا سب سے بڑا اجرا ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق یہ اقدام اس وقت زیر غور آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے باعث عالمی تیل مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جنگ کے آغاز کے بعد سے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس نے توانائی درآمد کرنے والے ممالک میں تشویش پیدا کر دی ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد آئی ای اے کے رکن ممالک نے دو مرحلوں میں مجموعی طور پر تقریباً 182 ملین بیرل تیل عالمی منڈی میں جاری کیا تھا تاکہ سپلائی میں پیدا ہونے والی کمی کو پورا کیا جا سکے۔
توانائی کے ماہرین کے مطابق اگر اس بار اسٹریٹجک ذخائر سے تیل جاری کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد عالمی منڈی میں رسد بڑھا کر قیمتوں میں استحکام لانا ہوگا۔ تاہم بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طویل ہو جاتی ہے یا آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل متاثر ہوتی ہے تو قیمتوں پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ عالمی معیشت اس وقت توانائی کی فراہمی کے حوالے سے حساس مرحلے میں ہے اور تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ دنیا بھر میں مہنگائی اور اقتصادی دباؤ کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اسی لیے آئی ای اے اور جی-7 ممالک صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں اور مارکیٹ کو مستحکم رکھنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔



