ایرانتازہ ترین

آبنائے ہرمز سے ملائیشین جہازوں کو گزرنے کی اجازت، ایران کا اہم فیصلہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران نے خلیج فارس میں پھنسے ملائیشیا کے کچھ جہازوں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے واپس اپنے ملک جانے کی اجازت دے دی ہے، یہ اعلان ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نے ایک ٹی وی خطاب میں کیا۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی توانائی کی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران اور مغربی اتحادیوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد آبنائے ہرمز تقریباً بند ہو چکی تھی، جس کے باعث سینکڑوں آئل ٹینکرز اور تجارتی جہاز پھنس گئے تھے۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی تیل کی سپلائی کو متاثر کیا بلکہ توانائی کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا۔

ملائیشیا، جو خود بھی تیل اور گیس پیدا کرنے والا ملک ہے، اپنی توانائی ضروریات کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے خام تیل درآمد کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز اس کے لیے انتہائی اہم تجارتی راستہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس راستے میں رکاوٹ کسی بھی ملک کی معیشت پر فوری اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر ایشیائی ممالک کے لیے جو بڑی حد تک اس گزرگاہ پر انحصار کرتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی جانب سے محدود سطح پر جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا ایک محتاط سفارتی اشارہ ہو سکتا ہے، جس کا مقصد عالمی دباؤ کو کم کرنا اور کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکنا ہے۔ تاہم صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب عالمی منڈیوں میں اس پیش رفت کو جزوی ریلیف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، لیکن ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں اور عالمی معیشت کو نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آبنائے ہرمز نہ صرف ایک جغرافیائی راستہ بلکہ عالمی توانائی سیاست کا ایک حساس مرکز بن چکی ہے، جہاں ہونے والا ہر فیصلہ پوری دنیا کی معیشت پر اثر انداز ہوتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button