ایرانتازہ ترین

ایران نے روسی میزائلوں سے امریکی جہازوں کو گرانا شروع کردیا

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایران نے ایک امریکی لڑاکا طیارے کو مار گرانے کے لیے روسی ساختہ جدید اور مہلک میزائل سسٹم استعمال کیا، جس کے بعد خطے میں جاری کشیدگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے خاموشی سے روس کے ساتھ تقریباً 450 ملین پاؤنڈ (اربوں روپے) کا دفاعی معاہدہ کیا، جس کے تحت سینکڑوں "وربا” (Verba) مین پورٹیبل ایئر ڈیفنس سسٹمز (MANPADS) اور ہزاروں میزائل حاصل کیے گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان میں سے کچھ ہتھیار رواں سال کے آغاز میں ایران کو فراہم بھی کیے جا چکے تھے۔

ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز گرنے والے امریکی ایف-15 طیارے کو ایک منصوبہ بند کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا، جہاں زمین سے فضا میں مار کرنے والے جدید میزائل استعمال کیے گئے۔ یہ میزائل خاص طور پر کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور ڈرونز کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیے جاتے ہیں۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ "وربا” جیسے جدید میزائل سسٹمز میں جدید انفراریڈ ٹریکنگ ٹیکنالوجی ہوتی ہے، جو روایتی جنگی طیاروں کے دفاعی نظام اور ہیٹ فلیئرز کو بھی دھوکہ دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے ان کی مؤثریت مزید بڑھ جاتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے اپنے بیانات اور ویڈیوز میں دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے مقامی طور پر تیار کردہ فضائی دفاعی نظام کے ذریعے امریکی طیارے کو نشانہ بنایا، تاہم مغربی انٹیلی جنس ذرائع اس دعوے پر شکوک کا اظہار کر رہے ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھا رہا ہے اور اعلیٰ سطحی حکام کی جانب سے فضائی برتری حاصل کرنے کے دعوے کیے جا رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق جدید شارٹ رینج میزائل سسٹمز اب بھی کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے ایک بڑا خطرہ بنے ہوئے ہیں، خاص طور پر ایسے مشنز میں جہاں فوری ردعمل اور زمین کے قریب کارروائی ضروری ہو۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران واقعی جدید روسی میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے تو اس سے نہ صرف خطے میں طاقت کا توازن متاثر ہو سکتا ہے بلکہ مستقبل میں فضائی کارروائیوں کے خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ظاہر کرتا ہے کہ جدید جنگی میدان میں ٹیکنالوجی، خفیہ معاہدے اور اسٹریٹیجک تیاری کس قدر اہم ہو چکی ہے، جہاں ایک جدید میزائل پورے آپریشن کا رخ بدل سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button