
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں امریکی فوجی اڈوں پر حملوں کے نتیجے میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان کے مطابق خطے میں جاری کارروائیوں کے دوران امریکی افواج کو جانی اور مادی لحاظ سے قابلِ ذکر نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات میں قائم الظفرہ ایئر بیس پر ہونے والے حملوں کے نتیجے میں تقریباً 200 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے سے تعلق رکھنے والے کم از کم 21 اہلکار مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ الظفرہ ایئر بیس کو خطے میں امریکہ کا ایک اہم فوجی اڈہ تصور کیا جاتا ہے جہاں سے مشرقِ وسطیٰ میں فضائی آپریشنز کی نگرانی کی جاتی ہے۔
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اس سے قبل ایک بیان میں کہا تھا کہ ان کی بحریہ کے ڈرون یونٹ نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے الظفرہ ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔ ایرانی ذرائع کے مطابق اس حملے میں خودکش اور حملہ آور ڈرونز استعمال کیے گئے جو بیک وقت مختلف اہداف پر داغے گئے۔
ایرانی ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز خلیج کے شمالی حصے میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تاہم اس واقعے کے بارے میں فوری طور پر امریکی حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جدید ڈرونز کو بھی مار گرایا۔ ایرانی حکام کے مطابق مار گرائے جانے والے ڈرونز میں MQ-9 ریپر، ہرمس اور آربیٹر جیسے جدید بغیر پائلٹ طیارے شامل تھے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک اس کے فوجی اور پاسدارانِ انقلاب مجموعی طور پر 82 ڈرونز تباہ کر چکے ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق موجودہ کشیدگی میں ڈرون ٹیکنالوجی اور میزائل حملے جنگی حکمتِ عملی کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ خطے میں امریکی اڈوں، بحری جہازوں اور توانائی تنصیبات کو ممکنہ اہداف سمجھا جا رہا ہے جس کے باعث سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
تاہم آزاد ذرائع سے ایران کے ان دعوؤں کی مکمل تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی، جبکہ امریکی حکام کی جانب سے بھی اس حوالے سے تفصیلی ردعمل سامنے آنا باقی ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسے حملوں کی شدت برقرار رہی تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی مزید وسیع تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔



