
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )دبئی: ایران کی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خلیج کے شمالی حصے میں ایک امریکی آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی۔ تاہم اس واقعے کی اب تک کسی آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے ایک بیان میں کہا کہ جنگی حالات کے پیش نظر خلیج کے حساس بحری راستوں پر کارروائیاں جاری ہیں اور اسی سلسلے میں ایک امریکی ٹینکر کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ حملے کے بعد جہاز میں آگ بھڑک اٹھی۔
اس دعوے کی فوری طور پر نہ تو امریکی حکام نے تصدیق کی ہے اور نہ ہی بین الاقوامی بحری اداروں یا دیگر ذرائع نے اس واقعے کی تصدیق کی ہے۔ اسی ہفتے کے آغاز میں بھی ایران نے ایک اسی نوعیت کے حملے کا دعویٰ کیا تھا، جس کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

پاسدارانِ انقلاب نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر خطے میں جنگی صورتحال برقرار رہی تو آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمدورفت اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول میں ہوگی۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل کی بڑی مقدار سمندر کے راستے مختلف ممالک تک پہنچائی جاتی ہے۔ کسی بھی قسم کی کشیدگی یا حملے کی خبر عالمی توانائی منڈیوں اور بحری سلامتی پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔
ابھی تک اس مبینہ حملے کی نوعیت، ٹینکر کی شناخت اور ممکنہ نقصان کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔ علاقائی اور بین الاقوامی ادارے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، جبکہ آنے والے گھنٹوں میں مزید معلومات سامنے آنے کا امکان ہے۔

توانائی کے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اس اہم راستے میں کسی قسم کی رکاوٹ یا فوجی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات فوری طور پر عالمی تیل کی قیمتوں، شپنگ انشورنس اور بین الاقوامی تجارت پر پڑ سکتے ہیں۔ اس طرح کے واقعات عالمی توانائی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر سکتے ہیں۔
ادھر عالمی بحری سکیورٹی ادارے اور بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں خلیج کی صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے جہازوں کے لیے اضافی سکیورٹی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ بعض جہازوں کے راستوں میں بھی تبدیلی کی جا رہی ہے۔
تاحال اس مبینہ حملے کی مکمل حقیقت سامنے نہیں آ سکی اور مختلف ذرائع اس حوالے سے مزید معلومات جمع کر رہے ہیں۔ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند گھنٹوں یا دنوں میں اس واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آ سکتی ہیں، جس سے صورتحال زیادہ واضح ہو جائے گی۔



