
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
ایران کے اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگی جھڑپوں کے دوران چند امریکی فوجیوں کو گرفتار کر لیا گیا ہے، تاہم امریکہ ان کی گرفتاری کو چھپانے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا کہ انہیں اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ حالیہ لڑائی میں متعدد امریکی فوجی ایرانی فورسز کے قبضے میں آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق امریکی حکام ان فوجیوں کی گرفتاری کے بجائے یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ وہ جنگ میں مارے گئے ہیں۔
لاریجانی نے کہا کہ امریکہ چاہے کتنی ہی کوشش کیوں نہ کرے، حقیقت زیادہ دیر تک چھپائی نہیں جا سکتی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی مسلح افواج نے بھرپور جوابی کارروائی شروع کی ہے۔
ایران کا سخت مؤقف
ایرانی سکیورٹی چیف نے خبردار کیا کہ ایران کی سرخ لکیریں عبور کرنے اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کا جواب ضرور دیا جائے گا۔ ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور قومی سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائے گا۔

لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ناکام ہو چکی ہے۔ ان کے بقول امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا مقصد ایران کے سیاسی نظام کو کمزور کرنا اور قومی اتحاد کو توڑنا تھا، تاہم وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی
گزشتہ ہفتوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کی جانب سے بھی میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے دعوے کیے گئے ہیں، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر دونوں جانب سے بیانات اور کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں تو یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور اس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہو سکتے ہیں۔



