(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکہ نے حالیہ کشیدگی کے دوران پیش کی گئی اس کی 10 اہم شرائط کو تسلیم کر لیا ہے، جسے مبصرین خطے میں ممکنہ بڑی سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی پر بات چیت جاری ہے۔
ایرانی مؤقف کے مطابق ان شرائط میں سب سے اہم یہ ہے کہ امریکہ مستقبل میں ایران کے خلاف کسی نئی جنگ یا حملے سے گریز کرے گا۔ اس کے علاوہ ایران نے آبنائے ہرمز پر اپنے کنٹرول کو برقرار رکھنے، یورینیم افزودگی کے حق کو تسلیم کرنے اور تمام بنیادی و ثانوی اقتصادی پابندیوں کے خاتمے جیسے مطالبات بھی شامل کیے ہیں۔
مزید برآں ایران کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر عالمی اداروں کی جانب سے اس کے خلاف جاری قراردادوں کو بھی ختم کیا جائے گا، جبکہ ایران کو ممکنہ نقصانات کے ازالے کے لیے مالی معاوضہ دینے کی بات بھی شامل ہے۔
ان شرائط میں ایک اہم نکتہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ خطے سے امریکی فوجی افواج کے انخلا اور تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے، بشمول لبنان میں حزب اللہ کے خلاف کارروائیوں کو روکنے، پر اتفاق کیا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام کی طرف سے ان تمام نکات کی باضابطہ تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی، جس سے صورتحال مزید غیر واضح ہو گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے دعوے اکثر مذاکراتی دباؤ بڑھانے یا سفارتی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے بھی سامنے آتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر واقعی ان شرائط پر پیش رفت ہوتی ہے تو یہ نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی سیاسی و سیکیورٹی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گی۔ تاہم حتمی نتائج کا انحصار آئندہ مذاکرات اور عملی اقدامات پر ہوگا، جو خطے کے مستقبل کا تعین کریں گے۔