
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ ) — مشرق وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست میں ایران کی عسکری طاقت ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے لیے ایک معمہ رہی ہے۔ سخت ترین بین الاقوامی پابندیوں، اسلحے کی مکمل بندش اور ٹیکنالوجی کی فراہمی روکے جانے کے باوجود، ایران نے نہ صرف مقامی سطح پر ‘فاتح’ (Fateh) جیسی درمیانے سائز کی ساحلی آبدوزیں خود تیار کی ہیں، بلکہ امریکی ساختہ جنگی طیاروں کو بھی دہائیوں تک فضا میں اڑان بھرنے کے قابل رکھا ہے۔
اس حیران کن عسکری خود انحصاری کی سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز کہانی امریکہ کے مشہور زمانہ ‘ایف-14 ٹام کیٹ’ (F-14 Tomcat) لڑاکا طیاروں سے جڑی ہے۔
جب امریکہ کو اپنے ہی طیارے پرزہ پرزہ کرنے پڑے
یہ گرمیوں کا موسم اور سال 2007 تھا، جب امریکی ریاست ایریزونا کے ‘ڈیوس-مونتھن ایئر فورس بیس’ میں ایک دیوہیکل شریڈر (Shredder) مشین نے ایک ایف-14 ٹام کیٹ لڑاکا طیارے کو نگلنا شروع کیا۔
- مشین نے پہلے طیارے کے پروں کو توڑا، پھر اس کے ڈھانچے کو کاٹا اور آخر میں اس کے انتہائی حساس الیکٹرانک آلات کو پرزہ پرزہ کر دیا۔
- محض ایک دن کے اندر، یہ شاندار جنگی طیارہ دھات کے ایک ایسے ڈھیر میں تبدیل ہو گیا جس کا سب سے بڑا ٹکڑا بھی 60 بائی 60 سینٹی میٹر سے زیادہ نہیں تھا۔
- پینٹاگون نے 23 ایسے ہی طیاروں کو تباہ کرنے کے لیے ایک کمپنی (TRI-Rinse) کو 9 لاکھ ڈالر ادا کیے۔
- یہ کارروائی 37 لاکھ ڈالر کے ایک بڑے منصوبے کا حصہ تھی جس کا مقصد ریٹائرڈ فوجی سازوسامان کے پرزوں کو بلیک مارکیٹ میں بکنے سے روکنا تھا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ محض پرانے طیاروں کو ٹھکانے لگانے کی کوئی عام کارروائی نہیں تھی، بلکہ یہ دراصل امریکہ کی جانب سے اپنی ‘شکست کا ایک علامتی اعتراف’ تھا۔
ہالی وڈ کا ہیرو طیارہ اور ایران کی انٹری
ایف-14 ٹام کیٹ 1970 کی دہائی کے وسط سے لے کر 1990 کی دہائی کے آخر تک امریکی فضائیہ کا سب سے نمایاں اور خطرناک لڑاکا طیارہ مانا جاتا تھا، جس کی فی طیارہ قیمت لگ بھگ 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تھی۔
امریکی کمپنی ‘گرومین’ (Grumman) کا تیار کردہ یہ طیارہ اتنا مشہور ہوا کہ 1980 کی دہائی میں یہ ہالی وڈ کی مشہور فلم ‘ٹاپ گن’ (Top Gun) میں ٹام کروز کے ساتھ جلوہ گر ہوا، اور سرد جنگ کے اختتام پر امریکی فضائی طاقت کی ایک علامت بن گیا۔
لیکن تاریخ کی ستم ظریفی دیکھیے کہ دنیا کا واحد غیر ملکی خریدار جس نے یہ طیارے حاصل کیے، وہ ایران تھا۔
- 1979 کے ایرانی انقلاب سے قبل، تہران نے 1976 میں واشنگٹن کے ساتھ 80 ایف-14 طیاروں کا معاہدہ کیا تھا۔
- انقلاب برپا ہونے تک 79 طیارے ایران پہنچ چکے تھے، جبکہ 80 واں طیارہ (جو ٹیسٹنگ کے لیے تھا) امریکہ نے روک لیا۔
- انقلاب کے بعد، یہ 79 طیارے اسلامی جمہوریہ ایران کی فضائیہ کا حصہ بن گئے۔

اس کے بعد ایران کے لیے سب سے بڑا چیلنج امریکی تکنیکی اور لاجسٹک سپورٹ کے بغیر ان طیاروں کو بحال رکھنا تھا۔
دیکھ بھال کا ڈراؤنا خواب اور ایران کا ‘جہادِ خود انحصاری’
یہ طیارہ دیکھ بھال (Maintenance) کے لحاظ سے ایک ڈراؤنا خواب تھا۔ اس میں نصب TF30 انجن دراصل لڑاکا طیاروں کے لیے نہیں بلکہ بمبار طیاروں کے لیے بنائے گئے تھے، جس کی وجہ سے یہ دورانِ جنگ زیادہ قابلِ بھروسہ نہیں تھے۔ اندازوں کے مطابق، اس طیارے کو فضا میں ایک گھنٹہ اڑان بھرنے کے لیے زمین پر 40 گھنٹے کی مینٹیننس درکار ہوتی تھی۔
ان تمام تر ناممکنات کے باوجود ایرانی انجینئرز نے دنیا کو حیران کر دیا۔
- 1982 میں، ایران نے سرکاری سطح پر ‘جہادِ خود انحصاری’ کا اعلان کیا اور فوری طور پر طیاروں کے بنیادی پرزوں کی مقامی سطح پر تیاری شروع کر دی۔
- ایرانی انجینئرز نے تباہ شدہ جہازوں کے ملبے سے پرزے نکال کر ایویونکس، ہائیڈرولکس اور فلائٹ کنٹرول کمپیوٹرز جیسے انتہائی پیچیدہ سسٹمز کو ریورس انجینئر (Reverse-engineer) کر لیا۔
- خراب طیاروں کو کھول کر ان کے صحیح پرزوں کو اڑان کے قابل طیاروں میں استعمال کرنا ایرانی فضائیہ کا معمول بن گیا۔

بلیک مارکیٹ اور امریکی پابندیوں کی ناکامی
جہاں مقامی پیداوار ناکافی ہوتی، وہاں ایران نے پرزے حاصل کرنے کے لیے ایک متوازی راستہ تلاش کر لیا: بلیک مارکیٹ۔
تین دہائیوں تک، امریکہ حیرانی سے دیکھتا رہا کہ کس طرح ایران نے جامع پابندیوں، اسلحے کی پابندیوں اور ٹیکنالوجی کی مکمل بندش کے باوجود ان امریکی جنگی طیاروں کو آپریشنل رکھا۔ امریکہ جب بھی پرزوں کی سپلائی کا ایک راستہ بند کرتا، ایران کوئی دوسرا راستہ نکال لیتا۔
رپورٹس کے مطابق، ایران اور چین سمیت دیگر ممالک کے خریداروں نے امریکی فاضل فوجی سامان کی فروخت کے حفاظتی نقائص کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور ایف-14 کے پرزوں سمیت حساس امریکی فوجی آلات حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ اسی وجہ سے امریکہ کو اپنے ہی طیاروں کو شریڈر میں ڈال کر تباہ کرنا پڑا تاکہ ان کے پرزے کسی بھی طرح ایران کے ہاتھ نہ لگ سکیں۔
موجودہ صورتحال کا تجزیہ: ایف-14 طیاروں کو زندہ رکھنے کی اس طویل اور کٹھن جدوجہد نے دراصل ایران کی مقامی ڈیفنس انڈسٹری کی بنیاد رکھی۔ آج ایران جو جدید ڈرونز اور بیلسٹک میزائل بنا کر عالمی طاقتوں کے لیے دردِ سر بنا ہوا ہے، اس کے پیچھے دہائیوں پر محیط ریورس انجینئرنگ اور اسی ‘جہادِ خود انحصاری’ کا تجربہ کارفرما ہے۔



