تازہ ترینچین

روس اور چین سے فوجی تعاون جاری، وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بیان

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ ایران کو روس اور چین کے ساتھ قریبی تعاون حاصل ہے، جس میں فوجی تعاون بھی شامل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی طاقتوں کے کردار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

ایک انٹرویو کے دوران عباس عراقچی نے روس اور چین کو ایران کے “اسٹریٹجک پارٹنرز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے ساتھ ماضی سے تعاون جاری ہے اور اس میں مختلف شعبوں کے ساتھ ساتھ فوجی تعاون بھی شامل ہے۔ تاہم انہوں نے اس تعاون کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔

امریکی حکام اس سے قبل دعویٰ کر چکے ہیں کہ روس ایران کو حساس انٹیلی جنس معلومات فراہم کر رہا ہے، جن میں امریکی جنگی جہازوں اور فوجی اثاثوں کے مقامات کے بارے میں معلومات بھی شامل ہو سکتی ہیں۔ بعض رپورٹس کے مطابق یہ معلومات روس کے جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک کے ذریعے فراہم کی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک رابطے میں ان الزامات کو مسترد کیا تھا اور کہا تھا کہ ماسکو براہِ راست اس نوعیت کی معلومات فراہم نہیں کر رہا۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران کی جانب سے کیے گئے کچھ ڈرون حملوں میں امریکی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد یہ خدشات مزید بڑھ گئے کہ ایران کو بیرونی انٹیلی جنس معاونت حاصل ہو سکتی ہے۔

اسی دوران امریکی انٹیلی جنس ذرائع کا کہنا ہے کہ چین بھی ایران کی مدد کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہا ہے، جن میں مالی معاونت، فوجی گاڑیوں کے پرزے اور میزائل ٹیکنالوجی سے متعلق سامان فراہم کرنا شامل ہو سکتا ہے۔

مزید یہ کہ گزشتہ ہفتے اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ چین کا جدید جاسوسی جہاز “لیاؤوانگ-1” آبنائے ہرمز کے قریب دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق یہ جہاز ایک طرح کا “فلوٹنگ سپر کمپیوٹر” سمجھا جاتا ہے جو جنگی میدان میں الیکٹرانک اور سیٹلائٹ معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین کی اس خطے میں دلچسپی کی ایک بڑی وجہ ایران کا تیل بھی ہے، کیونکہ چین اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ ایرانی تیل سے پورا کرتا ہے۔ اسی لیے بیجنگ کی کوشش ہے کہ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم ہو اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت محفوظ رہے۔

ماہرین کے مطابق ایران، روس اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون عالمی طاقتوں کے درمیان ایک نئے جیو پولیٹیکل توازن کی نشاندہی کرتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی کی منڈیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button