ایرانتازہ ترین

جنگی کشیدگی کے باوجود ایران کی چین کو تیل کی ترسیل جاری، آبنائے ہرمز سے لاکھوں بیرل روانہ

(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )

مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود ایران نے آبنائے ہرمز کے راستے چین کو بڑی مقدار میں خام تیل کی ترسیل جاری رکھی ہوئی ہے۔ شپنگ اور سیٹلائٹ ڈیٹا کا تجزیہ کرنے والی کمپنیوں کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کم از کم 1 کروڑ 17 لاکھ بیرل خام تیل اس اہم سمندری راستے کے ذریعے چین بھیج چکا ہے۔

شپنگ نگرانی کرنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز کے مطابق ایران کے بیشتر تیل بردار جہاز چین کی جانب روانہ ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باعث کئی جہازوں نے اپنی ٹریکنگ سسٹم بند کر دیے ہیں، جسے عام طور پر “گوئنگ ڈارک” کہا جاتا ہے، تاکہ ان کی نقل و حرکت کا سراغ لگانا مشکل ہو جائے۔

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین تیل گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ تاہم ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جنگ شروع ہونے کے بعد اس راستے پر جہازوں کی آمد و رفت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے اور کئی آئل ٹینکرز نے اس راستے سے گزرنے سے گریز کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے چین کو تیل کی ترسیل جاری رکھنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ بیجنگ حالیہ برسوں میں ایرانی خام تیل کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چین نے اس ممکنہ بحران کے پیش نظر اپنے تیل کے ذخائر میں بھی نمایاں اضافہ کیا ہے تاکہ توانائی کی سپلائی متاثر نہ ہو۔

دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ایران نے خلیج عمان میں واقع جاسک آئل ٹرمینل سے بھی تیل بردار جہاز لوڈ کرنا دوبارہ شروع کر دیا ہے۔ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز کے متبادل راستے کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس کی ترسیلی صلاحیت محدود ہے اور اسے مکمل متبادل قرار نہیں دیا جا سکتا۔

عالمی توانائی منڈی میں اس کشیدہ صورتحال کے باعث تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔ ایک مرحلے پر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جو گزشتہ چار برسوں کی بلند ترین سطح تھی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہی تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی سپلائی اور تیل کی قیمتوں پر طویل عرصے تک پڑ سکتے ہیں۔ اسی لیے دنیا کے بڑے ممالک اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور توانائی بحران سے بچنے کے لیے مختلف اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button