
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
بین الاقوامی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد ایران کے جوہری پروگرام میں تیزی آ سکتی ہے اور تہران ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی سمت میں قدم بڑھا سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر موجودہ حکومت برقرار رہتی ہے تو اس کے عزم میں مزید سختی آ سکتی ہے۔
عالمی سلامتی کے ماہر جیفری لیوس کا کہنا ہے کہ ایران میں ہزاروں ایسے ماہرین اور انجینئر موجود ہیں جو کسی بھی وقت جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اگر حملوں کے باوجود ایرانی حکومت قائم رہتی ہے تو ممکن ہے کہ وہ شمالی کوریا کی طرح اس نتیجے پر پہنچے کہ عالمی دباؤ سے بچنے کے لیے جوہری ہتھیار ہی سب سے بڑی ضمانت ہیں۔
خامنہ ای کے فتوے کے بعد نئی قیادت کا ممکنہ مؤقف
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جوہری ہتھیار بنانے کے خلاف مذہبی فتویٰ جاری کیا تھا، جس کے مطابق ایٹمی بم کی تیاری اسلامی اصولوں کے خلاف قرار دی گئی تھی۔ تاہم بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی قیادت اس پالیسی پر نظرثانی کر سکتی ہے۔

اسلحہ کنٹرول ایسوسی ایشن کی نان پرولیفریشن پالیسی ڈائریکٹر کیلسی ڈیونپورٹ کے مطابق موجودہ جنگ کے بعد ایران کے اندر ایسی سوچ مضبوط ہو سکتی ہے کہ ملک کو اپنی سلامتی کے لیے جوہری صلاحیت حاصل کرنی چاہیے، چاہے حکومت برقرار رہے یا تبدیل ہو جائے۔
جوہری مواد کے پھیلاؤ کا خدشہ
ماہرین نے ایک اور خدشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر ایران میں سیاسی نظام کمزور ہوا یا حکومت تبدیل ہوئی تو وہاں موجود جوہری مواد غیر محفوظ ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں جوہری مواد کے غلط ہاتھوں میں جانے یا عالمی سلامتی کے لیے خطرہ بننے کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے اندازوں کے مطابق ایران کے پاس حملوں سے قبل تقریباً 440 کلوگرام یورینیم موجود تھا جو 60 فیصد تک افزودہ کیا جا چکا تھا۔ ماہرین کے مطابق اگر اس یورینیم کو مزید افزودہ کیا جائے تو اس سے کئی جوہری ہتھیار تیار کیے جا سکتے ہیں۔
خطے میں کشیدگی میں اضافہ
ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا تبادلہ بھی جاری ہے۔ تہران اور دیگر شہروں میں فوجی اور حکومتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال مشرقِ وسطیٰ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے خطرے کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس کے عالمی سلامتی اور سفارتی تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔



