
دبئی/تہران:(تازہ حالات رپورٹ ) ایران نے جمعرات کے روز ملک کے جنوبی علاقوں میں راکٹ لانچ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے فضائی حدود کے لیے باضابطہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی جانب سے "نوٹس ٹو ایئر مین” (NOTAM) جاری کیا گیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ مخصوص علاقوں میں جمعرات کو صبح 03:30 GMT سے دوپہر 13:30 GMT تک راکٹ لانچ کی سرگرمیاں متوقع ہیں۔
نوٹس ٹو ایئر مین ایک ایسا نظام ہے جس کے ذریعے پائلٹس، فضائی عملے اور دیگر متعلقہ اداروں کو اہم حفاظتی ہدایات فراہم کی جاتی ہیں، تاکہ پروازوں کی منصوبہ بندی اور فضائی ٹریفک کو محفوظ بنایا جا سکے۔ ایسے نوٹس عموماً فوجی مشقوں، میزائل تجربات یا دیگر حساس سرگرمیوں کے موقع پر جاری کیے جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں سرگرمیاں
یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز میں بحری مشقیں بھی کر چکا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق جمعرات کو روس کے ساتھ مشترکہ بحری مشق بھی شیڈول ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک نہایت اہم گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا کی بڑی مقدار میں تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔

امریکا کے ساتھ کشیدہ ماحول
ادھر خطے میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔ امریکا نے حالیہ ہفتوں میں خطے میں اپنے جنگی بحری جہازوں کی موجودگی بڑھائی ہے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی عندیہ دیا ہے کہ واشنگٹن اس بات پر غور کر رہا ہے کہ آیا تہران کے ساتھ سفارتی رابطہ جاری رکھا جائے یا دیگر آپشنز اختیار کیے جائیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے راکٹ لانچ کا نوٹس تکنیکی یا دفاعی مشق کا حصہ بھی ہو سکتا ہے، تاہم موجودہ حالات میں اس اقدام کو خطے میں جاری طاقت کے مظاہرے کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔

فی الحال ایران کی جانب سے لانچ کیے جانے والے راکٹس کی نوعیت یا مقصد کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں، تاہم فضائی حدود میں پیشگی اطلاع جاری کیے جانے کو بین الاقوامی فضائی قوانین کے مطابق حفاظتی اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں خطے کی صورتحال کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ سفارتی کوششیں کس حد تک کامیاب رہتی ہیں یا کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔



