آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ڈرون بردار جہاز کی تعیناتی، سیٹلائٹ تصاویر نے تصدیق کر دی

تہران / خلیج فارس — سیٹلائٹ تصاویر سے انکشاف ہوا ہے کہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب (ر بحری جہاز "شہید باقری” آبنائے ہرمز کے قریب اپنی پوزیشن پر موجود ہے، جہاں یہ مسلسل تیسرے دن بھی دیکھا گیا ہے۔
حالیہ دنوں میں حاصل کی گئی تصاویر کے مطابق یہ بحری جہاز بندر عباس کی بندرگاہ سے تقریباً 13 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور جزیرہ قشم کی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے، اس لیے یہاں کسی بھی فوجی نقل و حرکت کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ڈرون بردار جہاز "شہید باقری” کو فروری 2025 میں پاسدارانِ انقلاب کے بحری بیڑے میں شامل کیا گیا تھا۔ یہ جہاز تقریباً 240 میٹر طویل اور 21 میٹر بلند ہے، جس میں میزائل نظام، ہیلی کاپٹر لفٹ اور جدید سہولیات موجود ہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ جہاز بیک وقت لگ بھگ 60 ڈرونز اور 30 میزائل لانچرز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
بین الاقوامی دفاعی اور سکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ڈرون بردار جہاز کی تیاری ایران کی بحری صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کی علامت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی پائی جاتی ہے۔ تاہم بعض ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ کسی ممکنہ تنازع کی صورت میں اسرائیل یا دیگر طاقتیں اس جہاز کی نقل و حرکت کو ٹریک کرنے اور اسے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ادھر خطے کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کی امید ظاہر کی ہے، جب کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ایران پر کسی بھی حملے کی صورت میں پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران پر ممکنہ فضائی حملے فوری طور پر متوقع نہیں، کیونکہ پینٹاگون اس وقت خطے میں دفاعی انتظامات کو مزید مضبوط بنا رہا ہے تاکہ کسی بھی ایرانی ردعمل کی صورت میں امریکہ، اسرائیل اور اتحادی ممالک کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
دوسری جانب ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اگر نیت منصفانہ ہو تو قلیل مدت میں ایسا معاہدہ ممکن ہے جو اس بات کی ضمانت دے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی ڈرون بردار جہاز کی موجودگی ایک واضح اسٹریٹجک پیغام ہے، جس کا مقصد طاقت کا اظہار بھی ہے اور مذاکراتی دباؤ بھی، تاہم آئندہ دنوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ صورتحال سفارت کاری کی طرف بڑھتی ہے یا مزید تناؤ کا باعث بنتی ہے۔



