
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے جدید اور بھاری بیلسٹک میزائل خرمشہر-4 (جسے بعض اوقات خیبر بھی کہا جاتا ہے) کو عملی طور پر استعمال میں لانے کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق یہ میزائل ایران کے میزائل پروگرام کی نئی نسل میں شمار کیا جاتا ہے اور اسے خطے میں طویل فاصلے تک اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کے ساتھ تیار کیا گیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق خرمشہر-4 ایک درمیانے فاصلے کا بیلسٹک میزائل ہے جس کی ممکنہ رینج تقریباً 2000 کلومیٹر بتائی جاتی ہے، جبکہ یہ تقریباً 1500 کلوگرام تک وزنی وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اس میزائل میں جدید نیویگیشن اور تیز رفتار پرواز کی خصوصیات شامل ہیں، جس کی وجہ سے یہ دفاعی نظاموں کو چکمہ دینے کی بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔ بعض رپورٹس کے مطابق اس میزائل کو کم وقت میں لانچ کرنے کے لیے تیار کیا جا سکتا ہے اور اسے موبائل پلیٹ فارم سے بھی فائر کیا جا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خرمشہر-4 ایران کے ان میزائلوں میں شامل ہے جو بھاری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے باعث زیادہ تباہ کن سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران نے اپنے میزائل پروگرام کو زیرِ زمین تنصیبات اور موبائل لانچرز کے ذریعے مزید محفوظ اور مؤثر بنانے کی کوشش بھی کی ہے
مغربی ممالک طویل عرصے سے ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام پر تشویش کا اظہار کرتے رہے ہیں اور اسے خطے کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں، جبکہ تہران کا مؤقف ہے کہ اس کا میزائل پروگرام دفاعی حکمتِ عملی کا حصہ ہے اور اس کا مقصد ملکی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق خرمشہر-4 جیسے میزائلوں کی تعیناتی مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور سکیورٹی صورتحال پر اثر ڈال سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب خطے میں ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔



