
تہران: ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے اپنے دفاعی نظام میں ایک جدید الیکٹرانک وارفیئر سسٹم “صیاد-4” شامل کر دیا ہے، جسے دنیا کے جدید ترین سسٹمز میں شمار کیا جا رہا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ نظام امریکی لڑاکا طیاروں، خصوصاً F-15E، F-16 اور اسٹیلتھ F-35 جیسے جہازوں کی نشاندہی اور ان کے سگنلز کی نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق “صیاد-4” کا مقصد دشمن کے فضائی آپریشنز کی بروقت شناخت، ریڈار سگنلز کا تجزیہ اور ممکنہ الیکٹرانک مداخلت کے ذریعے دفاعی برتری حاصل کرنا ہے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ نظام جدید ریڈار، سگنل انٹیلی جنس اور جامنگ ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جو کم نظر آنے والے اسٹیلتھ طیاروں کی سرگرمیوں کو بھی ٹریک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق الیکٹرانک وارفیئر آج کی جنگی حکمتِ عملی کا مرکزی عنصر بن چکا ہے۔ جدید تنازعات میں صرف میزائل یا طیارے ہی فیصلہ کن نہیں ہوتے بلکہ ریڈار، کمیونیکیشن اور ڈیجیٹل سسٹمز پر کنٹرول بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ایسے میں اگر ایران نے واقعی اپنی الیکٹرانک نگرانی کی صلاحیت کو اپ گریڈ کیا ہے تو یہ خطے میں فضائی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تاہم مغربی یا امریکی حکام کی جانب سے اس دعوے پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔ ماضی میں بھی ایران اپنی دفاعی پیش رفت سے متعلق اعلانات کرتا رہا ہے، جن میں بعض کو مبصرین نے اسٹریٹجک پیغام رسانی کا حصہ قرار دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی اور امریکا-ایران تعلقات کے تناظر میں ایسے اعلانات نہ صرف دفاعی تیاری کا اظہار ہوتے ہیں بلکہ سفارتی دباؤ کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی سمجھے جاتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں اس نظام کی عملی صلاحیتوں اور ممکنہ اثرات پر مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔



