
ایران جنگ میں امریکا کا اربوں ڈالر کا نقصان،مزید 200 ارب ڈالر مانگ لیے
(تازہ حالات) ایران نے پہلی بار امریکا کے جنگی جہاز F-35 کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے ۔ ایرانی میڈیا پر ایک ویڈیو جاری کی گئی ہے جس میں امریکی جہاز کو ٹارگٹ کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے
امریکی میڈیا CNN نے بھی تصدیق کی ہے کہ ایران کے ہاتھوں امریکی جنگی جہاز F-35 نشانہ بنا ہے جس کی قیمت 100 ملین ڈالر تھی ۔ امریکی میڈیا CNN امریکی فوجی ادارے سینٹکام کے ترجمان کیپٹن ٹم ہاکنز کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکی جہاز F-35 کو نقصان پہنچا ہے تاہم یہ جہاز قریبی امریکی اڈے پر اتر گیا اور پائلٹ محفوظ رہا ۔
یہ دنیا میں پہلا موقع ہے کہ امریکا کے F-35 جنگی کو کسی ملک نے نشانہ بنایا ہو۔ F.35 جنگی جہاز ریڈار پر نظر نہیں آتا اپنی سٹیلتھ خصوصیات کی وجہ سے ۔ چین روس ترکی جیسے چند ایک ممالک ہیں جو اس نوعیت کے جہازوں کو جدید ریڈار پر صرف دیکھ سکتے ہیں۔ ان جہازوں کی ایگزیکٹ لوکیشن کے بارے معلوم کرنا چین روس ترکی جیسے ملکوں کے ریڈار سسٹم کے لیے بھی مشکل ہے۔ ایران کا دعوی ہے کہ جدید ملکی ساختہ ایئر ڈیفنس سسٹم کے ذریعے اس جنگی جہاز کو نشانہ بنایا ہے ۔
کئی ماہر تجزیہ کاروں کے مطابق چین دراصل ایران جنگ میں بھرپور جنگی تجربے کررہا ہے یا اپنے ہتھیاروں کے تجربات کررہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ چینی جدید ایئر ڈیفنس سسٹم سے امریکی F.35 جہاز کو نشانہ بنایا گیا ہو ۔
دوسری طرف ایران نے ابتک جنگ میں امریکا اسرائیل کے 125 جنگی ڈرون تباہ کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں 12 عدد امریکی جنگی ڈرون M-Q 9 ریپر بھی ہیں جو ایران نے تباہ کیے جن کی کل مالیت 400 ملین ڈالر کے قریب ہے ۔
اس کے علاوہ کویت میں امریکا کے 3 F-15 جنگی جہاز تباہ ہوئے جس کو امریکا فرینڈلی فائر نتیجہ قرار دیتا ہے تاہم ایران کا دعوی ہے کہ وہ تینوں جہاز ایران نے نشانہ بنائے ۔
جب کہ عراق میں بھی امریکا کا ایک ایئر ریفولنگ ٹینکر KC-135 جہاز بھی نشانہ بنا جس میں 6 امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ عالمی میڈیا رائٹرز نیوز ایجسنی کے مطابق سعودی عرب میں ایک امریکی اڈے پر کھڑے 5 ایئر ریفیولنگ ٹینکر جہاز KC.135 بھی ایران کے ہاتھوں نشانہ بنے جس کا اعتراف ٹرمپ نے بھی کیا ۔ اس کے علاوہ ایران نے دعوی کیا ہے کہ امریکا کے 4 تھاڈ ایئر ڈیفنس سسٹم اور دیگر ریڈار سسٹم بھی نشانہ بنائے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ابتک اس جنگ میں امریکا کے 22 ارب ڈالر سے زائد 30 ارب ڈالر کا خرچہ ہوچکا ہے ۔ ٹرمپ حکومت نے مزید 200 ارب ڈالر جنگ کے لیے کانگریس سے مانگے ہیں۔



