ایرانتازہ ترین

یروشلم کے دو بھائی ایرانی انٹیلی جنس کو معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار

(یروشلم: تازہ حالات خصوصی رپورٹ)
اسرائیل کے سرکاری استغاثہ نے یروشلم سے تعلق رکھنے والے دو سگے بھائیوں کے خلاف سنگین سیکیورٹی الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کر دی ہے۔ دونوں نوجوان بھائیوں پر الزام ہے کہ انہوں نے ایران کی انٹیلی جنس کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے قومی سلامتی سے متعلق حساس معلومات منتقل کیں۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ایک بھائی، دوسرے کی معاونت سے، ایرانی خفیہ اداروں کے اہلکاروں سے مسلسل رابطے میں تھا اور مختلف نوعیت کی معلومات فراہم کر رہا تھا۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ دونوں ملزمان کو مکمل علم تھا کہ وہ دشمن انٹیلی جنس کے لیے کام کر رہے ہیں اور یہ سرگرمیاں مالی معاوضے کے بدلے انجام دی جا رہی تھیں۔

فردِ جرم میں بتایا گیا ہے کہ ملزمان پر “دشمن کو معلومات فراہم کرنے”، “قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی معلومات کی ترسیل” اور مشترکہ طور پر دشمن کے فائدے کے لیے کام کرنے جیسے الزامات شامل ہیں۔ استغاثہ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ قانونی کارروائی مکمل ہونے تک دونوں بھائیوں کو حراست میں رکھا جائے۔

حکام کی جانب سے یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ گرفتار ہونے والے بھائی یہودی ہیں یا عرب۔

اسرائیل میں ایران کے لیے مبینہ جاسوسی کے بڑھتے واقعات

اس واقعے کو سیکیورٹی ادارے ایک وسیع تر رجحان کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔ اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسی Shin Bet کے مطابق 2025 کے دوران کم از کم 25 اسرائیلی شہریوں پر ایران کے لیے جاسوسی کے الزامات عائد کیے گئے، جن میں یہودی شہری بھی شامل تھے۔

Shin Bet کی سالانہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جانب سے اسرائیلی شہریوں کو جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں میں 2025 کے دوران تقریباً 400 فیصد اضافہ دیکھا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 120 جاسوسی واقعات کو ناکام بنایا گیا۔

ان واقعات میں ایک IDF اہلکار کی گرفتاری بھی شامل تھی، جس پر الزام تھا کہ اس نے فوجی تنصیبات، ہتھیاروں اور اہم مقامات کی تصاویر اور ویڈیوز ایرانی انٹیلی جنس کو فراہم کیں۔

علاقائی کشیدگی اور خفیہ جنگ

سیاسی و سیکیورٹی ماہرین کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث خفیہ محاذ پر سرگرمیاں تیز ہو چکی ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے پر طویل عرصے سے جاسوسی، سائبر حملوں اور تخریبی کارروائیوں کے الزامات عائد کرتے آ رہے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ گرفتاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی حکام اندرونی سیکیورٹی خطرات کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور دشمن انٹیلی جنس نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید سخت کی جا رہی ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button