
نیویارک ((تازہ حالات رپورٹ )— مشرق وسطیٰ میں جنگ کے منڈلاتے بادلوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان، اسلامی جمہوریہ ایران نے اقوام متحدہ کو ایک باضابطہ اور سخت احتجاجی مراسلہ ارسال کیا ہے۔ اس خط میں ایران نے عالمی برادری پر واضح کیا ہے کہ وہ خطے میں کسی قسم کی جنگ کا آغاز نہیں کرنا چاہتا، تاہم کسی بھی غیر ملکی فوجی جارحیت کی صورت میں بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔
سلامتی کونسل سے فوری نوٹس لینے کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس (António Guterres) اور سلامتی کونسل کے صدر کے نام لکھے گئے اس اہم خط میں اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب، سفیر امیر سعید ایروانی، نے امریکی صدر کی جانب سے دی جانے والی حالیہ دھمکیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

ایران نے متنبہ کیا ہے کہ اگر اس پر حملہ مسلط کیا گیا، تو خطے میں موجود دشمن افواج کے تمام اڈے، تنصیبات اور اثاثے ایران کے ‘جائز اہداف’ (Legitimate Targets) تصور ہوں گے۔ خط میں سلامتی کونسل پر زور دیا گیا ہے کہ وہ طاقت کے اس غیر قانونی استعمال کی دھمکیوں کو روکنے کے لیے اپنا موثر کردار ادا کرے بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہو سکتے ہیں۔
امریکی دھمکیاں اور مخصوص فوجی اڈوں کا ذکر
اس مراسلے میں 18 فروری 2026 کو امریکی صدر کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ کا خاص طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔ اس پوسٹ میں دھمکی دی گئی تھی کہ اگر ایران نے معاہدہ نہ کیا تو امریکہ ممکنہ حملے کو روکنے کے لیے ‘ڈیاگو گارسیا’ (Diego Garcia) اور ‘فیئر فورڈ’ (Fairford) کے ہوائی اڈوں کو استعمال کر سکتا ہے۔

ایران نے اس بیان کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی اور صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ایرانی قیادت کا ماننا ہے کہ ایسے اشتعال انگیز بیانات خطے کو عدم استحکام کے ایک نئے اور خطرناک چکر میں دھکیلنے کا باعث بن سکتے ہیں۔
سفارت کاری اور جوہری مذاکرات پر ایرانی موقف
ایک طرف جہاں جنگی خطرات منڈلا رہے ہیں، وہیں ایران نے اپنے مراسلے میں اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور تنازعات کے سفارتی حل کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔ خط کے مطابق، تہران امریکی حکومت کے ساتھ جوہری مذاکرات میں نیک نیتی اور سنجیدگی سے حصہ لے رہا ہے تاکہ ایرانی عوام پر عائد غیر قانونی اور غیر انسانی معاشی پابندیوں کا مکمل اور قابلِ تصدیق خاتمہ کیا جا سکے۔
موجودہ صورتحال کا تجزیہ: سفارتی اور دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کا یہ خط محض ایک سفارتی احتجاج نہیں بلکہ خطے میں موجود امریکی اتحادیوں کے لیے ایک واضح ‘ریڈ لائن’ (Red Line) ہے۔ یہ خط اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران کسی بھی ممکنہ فوجی تصادم کی صورت میں اپنے دفاع کے لیے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا سہارا لیتے ہوئے جوابی کارروائی کا قانونی جواز پہلے سے ہی دنیا کے سامنے رکھ رہا ہے۔ اب گیند اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے کورٹ میں ہے کہ وہ ان بڑھتے ہوئے خطرات کو کس طرح کم کرتی ہے۔



