
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے کہا ہے کہ ایران میں فوجی اہداف کے حصول میں وقت لگے گا اور آئندہ دنوں میں مزید امریکی ہلاکتوں کا امکان بھی موجود ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملے تیسرے روز بھی جاری رہے۔
واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل کین نے واضح کیا کہ یہ کوئی “راتوں رات مکمل ہونے والا عمل” نہیں ہے۔ ان کے مطابق سینٹرل کمانڈ اور اتحادی افواج کو جو اہداف سونپے گئے ہیں، انہیں حاصل کرنے میں وقت درکار ہوگا اور بعض مشنز خاصے مشکل ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جاری فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی دستے بھی بھیج رہا ہے۔
ادھر اسرائیلی–امریکی فضائی مہم میں شدت آ گئی ہے اور اس کے خاتمے کے فوری آثار نظر نہیں آ رہے۔ امریکی فوج کے مطابق حالیہ کارروائی کے دوران کویتی فضائی دفاعی نظام نے غلطی سے تین امریکی ایف-15 ای لڑاکا طیارے مار گرائے۔ اس واقعے نے جنگی صورتحال کی پیچیدگی کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ ایران کے خلاف کارروائیاں چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں۔ پیر کے روز ایک اور امریکی فوجی اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا، جس کے بعد مجموعی امریکی ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خطے میں اتحادی ممالک اور اپنے اثاثوں کو نشانہ بنانے والے سیکڑوں ایرانی بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا۔

اسی پریس کانفرنس میں امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن “لامتناہی جنگ” میں تبدیل نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق کارروائیوں کا مقصد تہران کی میزائل صلاحیت، بحری قوت اور دیگر دفاعی ڈھانچے کو کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، “یہ عراق جیسی صورتحال نہیں ہے۔”
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف فضائی حملوں کے ذریعے ایرانی قیادت کو کمزور کرنا آسان نہیں ہوگا، کیونکہ زمینی افواج کے بغیر فیصلہ کن نتائج حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں، جن میں بعض شہری بھی شامل ہیں، جبکہ ایرانی قیادت کی جانب سے اقتدار چھوڑنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے۔
علاقائی مبصرین کے مطابق اگر موجودہ کشیدگی طویل ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی سیاست اور توانائی منڈیوں پر بھی گہرے ہو سکتے ہیں۔



