
جہاں بمباری ہوتی ہے وہاں چند گھنٹوں میں میزائل نکال کر داغنا شروع کردیتا ہے
(تازہ حالات خصوصی رپورٹ )
تازہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق ایران اپنے زیرِ زمین میزائل بنکرز کو امریکی اور اسرائیلی فضائی حملوں کے چند گھنٹوں کے اندر دوبارہ فعال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس نے جاری جنگ میں اس کی دفاعی حکمت عملی کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
ابتدائی دعوؤں میں کہا گیا تھا کہ مسلسل حملوں کے باعث ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیت شدید متاثر ہوئی ہے، تاہم نئی رپورٹس اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ایران اب بھی ایک بڑا میزائل ذخیرہ رکھتا ہے اور متاثرہ تنصیبات کو تیزی سے مرمت کر کے دوبارہ استعمال میں لا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران نے برسوں کے دوران پہاڑوں کے اندر گہرائی میں "میزائل سٹیز” قائم کی ہیں، جہاں مضبوط چٹانوں، خصوصاً گرینائٹ، کے اندر بنے بنکرز جدید ترین بموں کے اثرات کو بھی کافی حد تک کم کر دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طاقتور امریکی "بنکر بسٹر” بم بھی ان تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق بعض زیرِ زمین مراکز میں جدید ریل سسٹم موجود ہے، جو میزائلوں کو ذخیرہ کرنے، تیار کرنے اور لانچ کرنے کے مختلف مقامات کے درمیان تیزی سے منتقل کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی متعدد خفیہ راستے اور اخراجی پوائنٹس بھی بنائے گئے ہیں، جس سے ان تنصیبات کو نشانہ بنانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی حکمت عملی اب براہِ راست بڑے پیمانے پر حملوں کے بجائے محدود مگر مسلسل کارروائیوں پر مبنی ہے، تاکہ طویل عرصے تک دباؤ برقرار رکھا جا سکے۔ اسی حکمت عملی کے تحت میزائل اور ڈرون حملوں کی تعداد میں کمی تو آئی ہے، لیکن مکمل طور پر یہ سلسلہ رکا نہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق ابتدائی دنوں میں روزانہ سینکڑوں حملے کیے جا رہے تھے، جو اب کم ہو کر چند درجن رہ گئے ہیں، تاہم ایران اب بھی روزانہ درجنوں ڈرونز استعمال کر رہا ہے، جن میں سے اکثر کو فضا میں ہی ناکام بنا دیا جاتا ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ فضائی برتری حاصل ہے، لیکن ایران کے زیرِ زمین نیٹ ورک اور متحرک لانچ سسٹمز کے باعث خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایران نے دھوکہ دینے کے لیے جعلی لانچرز اور اہداف بھی استعمال کیے، جس سے اصل نقصان کا اندازہ لگانا مشکل ہو گیا ہے۔

دفاعی ماہرین کے مطابق اس طرح کے مضبوط اور پھیلے ہوئے نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے مسلسل اور درست معلومات پر مبنی کارروائیوں کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ ہر حملے کے بعد فوری مرمت ایران کو ایک بار پھر فعال ہونے کا موقع دے دیتی ہے۔
یہ پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جدید جنگ میں صرف حملہ آور طاقت کافی نہیں بلکہ دفاعی انفراسٹرکچر، جغرافیہ اور حکمت عملی بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہے، جس سے کسی بھی ملک کی جنگی صلاحیت طویل عرصے تک برقرار رہ سکتی ہے۔



